سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 146 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 146

۱۴۶ ہوئے جان دی ہے۔وہ دین کا ایک زبر دست پہلوان تھا جس کا نام خود خدا نے اپنے ایک الہام میں مسلمانوں کا لیڈر رکھا تھا۔وہ حق کے اسرار کا راز دار تھا۔اور دینی معارف کا ایک خزانہ تھا۔اگر چہ اس آسمان کے نیچے بڑے بڑے نیک لوگ پیدا ہوئے ہیں مگر اس آب و تاب کا موتی بہت کم دیکھنے میں آیا ہے۔اس قسم کے یک رنگ دوست کی جدائی سے دل میں درد اٹھتا ہے لیکن اپنے خدا کے فعل پر ہر حال میں راضی اور شاکر ہیں۔“ سفر دہلی ولدھیانہ و امرتسر اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی وفات کے بعد ماہ اکتو بر کے آخر میں حضرت مسیح موعود چند دن کے لئے دہلی تشریف لے گئے۔اس سفر سے پہلے آپ کو خواب میں یہ بتایا گیا امرتسر میں مخالفوں کا ہنگامہ :۔تھا کہ آپ دہلی گئے ہیں مگر شہر کے دروازوں کو بند پایا ہے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ دہلی میں لوگوں نے مخالفت کا شور تو بہت کیا مگر مخالفت کا دوسرا پہلو جو قبولیت کی صورت میں ظاہر ہوا کرتا ہے وہ ظاہر نہ ہوا اور آپ نے اپنی خواب کے مطابق دہلی والوں کے دلوں پر قفل لگے ہوئے پائے۔مگر پھر بھی تبلیغ کا حق ادا کیا گیا اور بہت لوگ ملاقات سے مستفیض ہوئے۔دہلی سے واپسی پر آپ لدھیانہ میں دو دن ٹھہرے۔یہ لدھیانہ وہی تھا جس میں آپ نے سب سے پہلی بیعت لی تھی اور جس میں بیعت اولیٰ کے دو سال بعد آپ نے دعویٰ مسیحیت کا اعلان کیا تھا۔لدھیانہ میں دہلی کی طرح شہر کے دروازے مقفل نہیں تھے اور باوجود مخالفت کے ۶ نومبر ۱۹۰۵ء کو آپ کا ایک بہت کامیاب لیکچر ہوا اور ہزاروں انسانوں نے آپ کا کلام سنا۔لدھیانہ سے روانہ ہو کر آپ دو دن کے لئے امرتسر ٹھہرے۔یہاں بھی لوگوں کی خواہش پر آنے ۹ نومبر ۱۹۰۵ء کو ایک تقریر فرمائی جس میں حاضری بہت کا فی تھی۔مگر دوران تقریر میں مخالفوں نے شور مچانا شروع کر دیا اور باوجود کوشش کے نہ رکے حتی کہ آپ کو اپنی تقریر بند کر نی پڑی۔اس وقت