سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 97 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 97

۹۷ تو دیکھ لوں یہ وہ جذبات تھے جو ان دنوں میں حضرت مسیح موعود کے دل و دماغ پر غلبہ پائے ہوئے تھے اور اس تیز روسوار کی طرح جس کے گھوڑے کے پاؤں میں زنجیریں پڑی ہوئی ہوں آپ ان زنجیروں کو تو ڑ کر ہوا ہو جانے کے لئے بے چین ہورہے تھے۔خدا نے اپنے فضل سے آپ کو اس دن کی تھوڑی سی روشنی دکھا بھی دی کہ جب آپ کی تیار کردہ جماعت اڑنے کے قابل تو نہیں مگر تیز رفتاری سے چلنے کے قابل ہو گئی۔لیکن ان حالات کے بیان کے لئے اگلے اوراق ہیں جن کے لئے ہمیں جلدی کی ضرورت نہیں۔اس وقت تک جو جماعت کی ترقی ہوئی اس کے اسباب مختلف تھے جن میں سے ہم بعض کو اس جگہ اختصار کے ساتھ بیان کرتے ہیں:۔اول ایک بہت بڑا نہایت مؤثر سبب خود حضرت مسیح موعود کی ذات تھی۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے ایسا مقناطیسی وجود عطا کیا تھا کہ وہ اپنے ساتھ مناسبت رکھنے والی روح کو فوراً اپنی طرف کھینچ لیتا تھا اور یہ بات حضرت مسیح موعود کے ساتھ ہی خاص نہیں تھی بلکہ ہر نبی کی کامیابی کا ایک بڑا ذریعہ اس کا ذاتی اثر ہوتا ہے۔بے شک یہ درست ہے کہ یہ ذاتی اثر کسی نبی میں کم ہوتا ہے اور کسی میں زیادہ۔مگر حضرت مسیح موعود کے وجود میں یہ اثر آپ کے متبوع حضرت محمد ﷺ کی طرح اپنے کمال کو پہنچا ہوا تھا۔آنحضرت ﷺ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:۔اگر خواہی دلیلے عاشقش باش محمد برہان محمد هست و یعنی اے حق کے متلاشی انسان ! اگر تو محمد ﷺ کی صداقت کی دلیل چاہتا ہے تو آپ کا عاشق بن جا کیونکہ محمد ﷺ کی سب سے بڑی دلیل خود محمد ﷺ کا اپنا وجود ہے۔“ یہی دلیل اسی صداقت اور اسی زور کے ساتھ حضرت مسیح موعود پر بھی چسپاں ہوتی ہے۔سینکڑوں ہزاروں لوگ ایسے ہیں جنہوں نے صرف حضرت مسیح موعود کا چہرہ دیکھ کر بغیر کسی دلیل کے آپ کو مان لیا اور ان کی زبان سے بے اختیار یہ الفاظ نکلے کہ یہ منہ جھوٹوں کا نہیں ہوسکتا۔سینکڑوں ہزاروں ایسے ہیں جو چند دن کی صحبت میں رہ کر