صفات باری تعالیٰ — Page 86
یعنی الأسماء الحسنى ۱۱۷ - القوى توانا، تام القدر۔حضرت امام غزالی فرماتے ہیں کہ قوت دلالت کرتی ہے قدرت کاملہ بالغہ پر چونکہ وہ قدرت کا ملہ بالغہ رکھتا ہے اسی وجہ سے وہ بالقومٹی کہلا تا ہے۔فرمایا: اللهُ لَطِيفٌ بِعِبَادِهِ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ - (الشورى: ٢٠) یہ اسم خدا تعالیٰ کی دیگر صفات کے ساتھ مل کر بھی آیا ہے۔جیسا کہ فرمایا: كتب الله لأغُلِبَنَ أَنَا وَرُسُلِى إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ (المجادلة: ٢٢) ΔΥ إِنَّهُ قَوِيٌّ شَدِيدُ الْعِقَابِ - (المؤمن: ۲۳) یہ یادر ہے کہ جب خدا تعالیٰ کی کچھ صفات ایک دوسرے کے ساتھ مل کر آتی ہیں تو خدا تعالیٰ کی شان کے جلوے ایک اور ہی رنگ اور معانی کو اپنے اندر لئے ہوئے ظاہر ہوتے ہیں۔گویا یہ صفات ایک دوسرے کے ساتھ مل کر خدا تعالیٰ کی ان مختلف صفات سے متصف طاقتوں کا مشترکہ طور پر جلوہ دکھا کر آنکھوں کو خیرہ اور دلوں کو جذب کر رہی ہوتی ہیں۔۱۱۸۔شَدِيدُ الْعِقَابِ برے کاموں کی سخت سزا دینے والا۔ارتکاب جرم کے بعد مرتکب جرم کو سخت سزا دینے والا۔یہ اسم سورہ مومن کی ابتداء میں آیا ہے۔فرمایا: غَافِرِ الذَّنْبِ وَ قَابِلِ التَّوبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي القَولِ۔اسی طرح فرمایا : (المؤمن: ۴) وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ - (البقرة: ۱۹۷)