صفات باری تعالیٰ — Page 85
یعنی الأسماء الحسنى ۸۵ ہو تو معنی ہوئے حاضر ہونے کے اور شہادت سے ہو تو معنی ہوں گے۔گواہ۔غرض الشهید اللہ تعالیٰ کی وہ صفت ہے جس کے معنی ہوں گے مخلوقات کے ہر حال سے مطلع اور واقف۔فرمایا: وَاَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ۔پھر فرمایا: (المائدة : ۱۱۸) قُلْ كَفَى بِاللَّهِ بَيْنِي وَبَيْنَكُمُ شَهِيدًا۔(العنكبوت: ۵۳) اسی طرح مندرجہ ذیل مقامات پر بھی آیا ہے۔سباع ۲- مجادله ۱۰۶ - انعام ع ۲ - یونس ع ۵ - حج ۲۶ - ١١٦ - اَلْحَقِّ سچائی اور صداقت کا سرچشمہ، اپنی ہستی میں ثابت شدہ وجود جس میں کوئی تبدیلی اور تغیر نہیں ہوسکتا۔فرمایا: ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ - (الأنعام: ۶۳) پھر وہ سب کے سب اپنے حقیقی مولیٰ کی طرف واپس کئے جائیں گے۔اسی طرح فرمایا: فَتَعَالَى اللهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ - (طه:۱۱۵) ذَالِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ - (الحج: ٦٣) انَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِينُ - (النور: ۲۶) کیونکہ ہر شے کو فنا ہے۔لہذا ہر شے غیر حقیقی ہے اور صرف خدا تعالیٰ کی ذات ہی غیر متبدل اور غیر فانی ہے اس لئے وہ ہی ایک حقیقت اور حق ہے۔جیسا کہ فرمایا: كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبَّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ (الرحمن: ۲۷-۲۸)