صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 76 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 76

۷۶ یعنی الأسماء الحسنى أم الصفات مالک کے تحت صفات الہیہ ” خدا تعالیٰ جو ہمارا خدا کہلاتا ہے اس کی خدائی کی اصل حقیقت ہی یہی ہے کہ وہ ایک مبد، فیض وجود ہے جس کے ہاتھ سے سب وجودوں کا نمود ہے اسی سے اس کا استحقاق معبودیت پیدا ہوتا ہے اور اسی سے ہم بخوشی دل قبول کرتے ہیں کہ اس کا ہمارے بدن و دل و جان پر قبضہ استحقاقی قبضہ ہے کیونکہ ہم کچھ بھی نہ تھے اسی نے ہم کو وجود بخشا۔پس جس نے عدم سے ہمیں موجود کیا وہ کامل استحقاق سے ہمارا مالک ہے۔“ هحبه حق روحانی خزائن جلد نمبر ۲ صفحه ۲۴۸-۲۴۹) پھر حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام فرماتے ہیں: چوتھا احسان خدا تعالیٰ کا جو قسم چہارم کی خوبی ہے جس کو فیضان اخص سے موسوم کر سکتے ہیں مالکیت یوم الدین ہے جس کو سورۃ فاتحہ میں فقرہ مالک یوم الدین میں بیان فرمایا گیا ہے اور اس میں اور صفت رحیمیت میں یہ فرق ہے کہ رحیمیت میں دعا اور عبادت کے ذریعہ سے کامیابی کا استحقاق قائم ہوتا ہے اور صفت مالکیت یوم الدین کے ذریعہ سے وہ ثمرہ عطا کیا جاتا ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ جیسے ایک انسان گورنمنٹ کا ایک قانون یاد کرنے میں محنت اور جدو جہد کر کے امتحان دے اور پھر اس میں پاس ہو جائے۔پس رحیمیت کے اثر سے کسی کامیابی کے لئے استحقاق پیدا ہو جانا پاس ہو جانے سے مشابہ ہے اور پھر وہ چیز یادہ مرتبہ میسر آ جانا جس کے لئے پاس ہوا تھا اُس حالت سے مشابہ انسان کے فیض پانے کی وہ حالت ہے جو پر تو ہ صفت مالکیت یوم الدین سے حاصل ہوتی ہے۔ان دونوں صفتوں رحیمیت اور مالکیت یوم الدین میں یہ اشارہ ہے کہ فیض رحیمیت خدا تعالیٰ کے رحم سے حاصل ہوتا ہے۔اور فیض مالکیت یوم الدین