صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 75 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 75

یعنی الأسماء الحسنى ”ہمارے خدا میں بے شمار عجائبات ہیں مگر وہی دیکھتے ہیں جو صدق اور وفا سے اس کے ہو گئے ہیں وہ غیروں پر جو اس کی قدرت پر یقین نہیں رکھتے اور اس کے صادق و وفادار نہیں وہ عجائبات ظاہر نہیں کرتا۔کیا ہی بد بخت وہ انسان ہے جس کو اب تک یہ پتہ نہیں کہ اس کا ایک خدا ہے جو ہر ایک چیز پر قادر ہے۔“ کشتی نوح روحانی خزائن جلد نمبر ۱۹ صفحه ۱۹) اسی طرح جلالی و جمالی صفات الہیہ کے جلوہ گر ہونے کے متعلق آپ یوں رقم طراز ہیں: یا در ہے کہ جس طرح ستارے ہمیشہ نوبت به نوبت طلوع کرتے رہتے ہیں اسی طرح خدا کے صفات بھی طلوع کرتے رہتے ہیں۔کبھی انسان خدا کے صفات جلالیہ اور استغناء ذاتی کے پر توہ کے نیچے ہوتا ہے اور کبھی صفات جمالیہ کا پر تو ہ اس پر پڑتا ہے۔اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ (الرحمن:۳۰) ۷۵ پس یہ سخت نادانی کا خیال ہے کہ ایسا گمان کیا جائے کہ بعد اس کے کہ مجرم لوگ دوزخ میں ڈالے جائیں گے پھر صفات کرم اور رحم ہمیشہ کے لئے معطل ہو جائیں گی اور کبھی ان کی تجلی نہیں ہوگی۔کیونکہ صفات الہیہ کا تعطل ممتنع ہے بلکہ حقیقی صفت خدا تعالیٰ کی محبت اور رحم ہے اور وہی ائم الصفات ہے اور وہی کبھی انسانی اصلاح کے لئے صفات جلالیہ اور غضبیہ کے رنگ میں جوش مارتی ہے اور جب اصلاح ہو جاتی ہے تو محبت اپنے رنگ میں ظاہر ہو جاتی ہے اور پھر بطور موہبت ہمیشہ کے لئے رہتی ہے۔خدا ایک چڑ چڑہ انسان کی طرح نہیں ہے جو خواہ مخواہ عذاب دینے کا شائق ہو۔اور وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ لوگ اپنے پر آپ ظلم کرتے ہیں۔اس کی محبت میں تمام نجات اور اس کو چھوڑنے میں تمام عذاب ہے۔“ چشمه مسیحی روحانی خزائن جلد نمبر ۲۰ صفحه ۳۷۰-۳۷۱)