صفات باری تعالیٰ — Page vii
بسم الله الرحمن الرحیم دیباچه الحمد للہ خاکسار کو اب تک بہت سے مضامین لکھ کر جماعت کے مختلف رسالوں اور اخبارات میں چھپوانے کی توفیق ملی ہے۔چنانچہ الاسماء الحسنیٰ کے مضامین بھی گیارہ قسطوں میں اگست ستمبر ۱۹۸۰ء میں روز نامہ الفضل ربوہ میں شائع ہوئے تھے۔حضرت مسیح موعود نے اپنی کتب میں بیان فرمایا ہے کہ سورۃ الفاتحہ ام الکتاب ہے۔قرآن کریم کے تمام مضامین اس سے نکلتے ہیں اور اس میں پائی جانے والی چار صفات الہیہ یعنی رب ، رحمن ، رحیم اور مالک یوم الدین اُم الصفات ہیں۔چنانچہ خاکسار نے اس بات کا علم حاصل کرنے کی کوشش کی ہے کہ کون سی ام الصفات سے کون سی دیگر صفات نکلی ہیں۔مجھے یاد ہے جب یہ مضمون شائع ہوا تھا تو استاذی المکرم ملک سیف الرحمن صاحب مفتی سلسلہ مرحوم نے اس پر خوشنودی کا اظہار فرمایا تھا اور اس مضمون کو کتا بچہ کی شکل میں شائع کرانے کی طرف توجہ دلائی تھی۔ایک دفعہ جب خاکسار نے طلباء جامعہ احمد یہ یو کے کی ایک مجلس میں اس مضمون کی ایک جھلک پیش کرنے کی توفیق پائی تو بعد میں بعض طلباء نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ انہیں کتابی شکل میں شائع کرنا چاہیے جس پر میں نے جو بلی کے اپنے پروگرام میں اس کی اشاعت کو بھی شامل کر لیا۔اس کے ساتھ اپنا ایک اور مضمون ”عباد الرحمن کی خصوصیات“ بھی شامل اشاعت کر رہا ہوں۔یہ مضمون میرے جامعہ احمدیہ کے تعلیمی دور کے دوران ستمبر، اکتوبر ۱۹۶۷ء میں 9 اقساط میں روز نامہ الفضل میں شائع ہوا تھا اور میرے بعض نہایت ہی پیارے اور محترم اساتذہ نے مجھے پیار سے عباد الرحمن کہنا شروع کر دیا تھا۔اللہ تعالیٰ کی صفات کا علم ایک بہت ضروری علم ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جابجا بیان فرمایا ہے اور آنحضرت صلی شما کی تم نے عملاً ان صفات کا کامل مظہر بن کر دنیا کو خدا تعالیٰ کا چہرہ دکھا دیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے خلفاء کرام نے بھی اس طرف توجہ