صفات باری تعالیٰ — Page 34
یعنی الأسماء الحسنى وہ زندہ اور دوسروں کو زندگی دینے والا ہے۔اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔غرض زندگی کے سب سرچشمے اس کے ہاتھ میں ہیں۔کیونکہ وہ خالق ورزاق ہونے کے ساتھ زندہ ، زندگی بخش ، قائم بالذات اور قیوم کل کائنات ہے۔حضرت بانی جماعت احمدیہ علیہ السلام فرماتے ہیں: سو وہ خالق بھی ہے اور قیوم بھی اور جب انسان پیدا ہو گیا تو خالقیت کا کام تو پورا ہو گیا۔مگر قیومیت کا کام ہمیشہ کے لئے ہے۔اس لئے دائمی استغفار کی ضرورت پیش آئی۔غرض خدا کی ہر صفت کے لئے ایک فیض ہے اور استغفار صفت قیومیت کا فیض حاصل کرنے کے لئے ہے۔“ اس طرف اشارہ سورہ فاتحہ کی اس آیت میں ہے۔ايَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ - (الفاتحة:۵) یعنی ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی اس بات کی مدد چاہتے ہیں کہ تیری قیومیت اور ربوبیت ہمیں مدد دے اور ہمیں ٹھوکر سے بچاوے تا ایسا نہ ہو کہ کمزوری ظہور میں آوے۔“ ۳۴ ١٩- الْفَالِقُ ریویو آف ریلیجنزار دو جلد اول صفحه ۱۹۴ - ۱۹۵) ظلمت کے بعد روشنی پھیلانے والا ، بیچوں اور گٹھلیوں کو نشود نمادینے والا۔فرمایا: إِنَّ اللَّهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوَى (الانعام:۹۶) اللہ یقیناً دانے اور گٹھلیوں کو پھاڑنے والا ہے۔(الانعام: ۹۷) فَالِقُ الْإِصْباح - وہ صبح کو ظاہر کرنے والا ہے۔قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔(الفلق : ٢)