صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 129 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 129

عباد الرحمان کی خصوصیات ڈرتے ڈرتے دن بسر کیا۔“ کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۲) عبادالرحمن کی دسویں خصوصیت عبادالرحمن کی دسویں خصوصیت یہ ہے کہ وہ جھوٹی گواہیاں نہیں دیتے نہ عدالت میں نہ انسان کے حق میں اور نہ اپنے اعضاء کے خلاف جھوٹی گواہی دیتے ہیں۔یعنی اگر ان کے ہاتھوں ، کانوں اور پیروں سے کوئی براعمل سرزد ہو گیا یا ان کی زبان نے کوئی بات کہہ دی تو وہ یہ نہیں کہتے کہ ان کے ہاتھوں نے ایسا نہیں کیا ان کے کانوں نے ایسا نہیں سنا ان کی زبان اور پیروں نے ایسا نہیں کیا۔اگر وہ ایسا کریں گے تو وہ اپنے ہی اعضاء کے اعمال کے خلاف گواہی دے رہے ہیں۔ایسا ہی قیامت کے روز خدا تعالیٰ کے حضور اس کی تردید میں ان کے اعضاء گواہی دیں گے اور ان کے جھوٹ کی تردید کریں گے۔خدا تعالیٰ کی صفات اور اس کی ہستی کا انکار کرنا بھی ایک جھوٹ ہے جس سے شرک لازم آتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: قرآن شریف نے جھوٹ کو بھی ایک نجاست اور رجس قرار دیا ہے۔جیسا کہ فرمایا ہے فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَولَ النُّورِ (الحج : ۳۱) دیکھو یہاں جھوٹ کو بت کے مقابل رکھا ہے۔اور حقیقت میں جھوٹ بھی ایک تباہی ہے ورنہ کیوں سچائی کو چھوڑ کر دوسری طرف جاتا ہے۔جیسے بت کے نیچے کوئی حقیقت نہیں ہوتی اسی طرح جھوٹ کے نیچے بجر بلمع سازی کے اور کچھ بھی نہیں ہوتا۔جھوٹ بولنے والوں کا اعتبار یہانتک کم ہو جاتا ہے کہ اگر وہ سچ کہیں تب بھی یہی خیال ہوتا ہے کہ اس میں بھی کچھ جھوٹ کی ملاوٹ نہ ہو۔اگر جھوٹ بولنے والے چاہیں کہ ہمارا جھوٹ کم ہو جائے ، تو جلدی سے دور نہیں ہوتا۔مدت تک ریاضت کریں۔تب جا کر سچ بولنے کی عادت اُن کو ہوگی۔“ ( ملفوظات جلد سوم صفحه ۳۵۰) ۲۹