صفات باری تعالیٰ — Page 115
۱۵ عباد الرحمان کی خصوصیات شہید ہوئے اور بیس کے قریب خطر ناک زخمی ہوئے باقی سب خیریت کے ساتھ واپس آگئے۔یہ تائید مسلمانوں کو صرف اس لئے حاصل ہوئی کہ وہ طاقت اور غلبہ کو اپنی عیاشی کا ذریعہ نہیں بناتے تھے بلکہ ہر قسم کی طاقت اور ہر قسم کا غلبہ حاصل کرنے کے باوجود اُن کی زبانیں ذکر الہی سے تر رہتی تھیں اور اُن کی راتیں خدا کے حضور قیام وسجود میں گذر جاتی تھیں۔دنیا میں بڑی بڑی فاتح اقوام گذری ہیں مگر ہمیں کسی قوم کی تاریخ میں یہ مثال نظر نہیں آئیگی کہ وہ اتنے خدا ترس ہوں کہ ان کی تلوار کسی عورت کسی بچے کسی بوڑھے اور کسی دینی شغف رکھنے والے انسان پر نہ اٹھتی ہو۔اُن کی تلوار کسی ایک انسان کا بھی ناجائز طور پر خون نہ بہاتی ہو اور راتوں کو وہ خدا تعالیٰ کے حضور روتے اور گڑ گڑاتے ہوں۔یہ عظیم الشان خوبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں پائی جاتی تھی۔جن کے اعلیٰ درجہ کے اخلاق اور بلند کردار کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ نے کفار کو بتایا ہے کہ دیکھو یہ لوگ تمہارے ہی ملک اور تمہارے ہی شہر کے رہنے والے تھے اور تمہارے ہی ساتھ انہوں نے اپنی عمروں کا بیشتر حصہ بسر کیا ہے مگر تم بھی جانتے ہو اور باقی سب لوگ بھی اس بات کے گواہ ہیں کہ نہ اُن میں يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا والی بات پائی جاتی تھی اور نہ اُن میں يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَ قِيَامًا والی کیفیت پائی جاتی تھی بلکہ اس کے برعکس ظلم و ستم اُن کا شیوہ تھا۔اور شراب خوری اور عیاشی میں انہماک اُن کا رات دن کا شغل تھا مگر جب انہوں نے خدائے رحمن کے کلام کو قبول کیا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلے تو اُنکی دنیا ہی بدل گئی اور اُن کی اخلاقی اور روحانی حالت میں بھی ایک تغیر عظیم واقع ہو گیا۔اگر یہ خدائے رحمن کے کلام کو قبول کرنے کی برکت نہیں تو بتاؤ اُن میں یہ خوبیاں کہاں سے پیدا ہوئیں اور کس چیز نے انہیں ان اعلیٰ درجہ کے اخلاق کا