صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 106 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 106

عباد الرحمان کی خصوصیات اس کے پاس بیٹھا ہے اور وہ کراہت کرتا ہے اس نے بھی تکبر سے حصہ لیا ہے۔ایک شخص جو دُعا کرنے والے کو ٹھٹھے اور ہنسی سے دیکھتا ہے اُس نے بھی تکبر سے ایک حصہ لیا ہے۔اور وہ جو خدا کے مامور اور مرسل کی پورے طور پر اطاعت کرنا نہیں چاہتا اُس نے بھی تکبر سے ایک حصہ لیا ہے۔اور وہ جو خدا کے مامور اور مرسل کی باتوں کو غور سے نہیں سنتا اور اس کی تحریروں کو غور سے نہیں پڑھتا اُس نے بھی تکبر سے ایک حصہ لیا ہے۔سو کوشش کرو کہ کوئی حصہ تکبر کا تم میں نہ ہو تا کہ ہلاک نہ ہو جاؤ اور تا تم اپنے اہل و عیال سمیت نجات پاؤ۔( نزول مسیح روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۰۲۔۴۰۳) انکساری اور عاجزی اور لوگوں کے لئے باعث سلامتی بننے سے انسان کو خود بھی بہت فائدہ ہوتا ہے۔اور ایسے نافع الناس وجود کو دنیا میں لمبی عمر دی جاتی ہے جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُتُ فِي الْأَرْضِ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک اور جگہ جماعت کو نصیحت فرماتے ہیں: اہل تقوی کے لیے یہ شرط ہے کہ وہ اپنی زندگی غربت اور مسکینی میں بسر کریں۔۔۔۔میں نہیں چاہتا کہ میری جماعت والے آپس میں ایک دوسرے کو چھوٹا یا بڑا سمجھیں، یا ایک دوسرے پر غرور کریں یا نظر استخفاف سے دیکھیں۔خدا جانتا ہے کہ بڑا کون ہے یا چھوٹا کون ہے۔یہ ایک قسم کی تحقیر ہے جس کے اندر حقارت بیچ کی طرح بڑھے اور اس کی ہلاکت کا باعث ہو جائے۔بعض آدمی بڑوں کومل کر بڑے ادب سے پیش آتے ہیں لیکن بڑا وہ ہے جو مسکین کی بات کو مسکینی سے سنے۔اس کی دلجوئی کرے۔اس کی بات کی عزت کرے۔کوئی چڑ کی بات منہ پر نہ لاوے کہ جس سے دکھ پہنچے۔خدا تعالی فرماتا ہے۔وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الاِسْمُ الْفُسُوقُ ۶