صدق المسیح — Page 48
-- --- قیامت تک نبوت کا دعویٰ کرے وہ ضرور جھوٹا ہے۔کیونکہ آخری زمانہ میں آنے والے مسیح موعودؓ کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے نبی اللہ کے معزز ترین لقب سے ملقب فرمایا ہے۔ملاحظہ ہو ( صحیح مسلم جلد الثانی صفحہ ۴۰۱ قدیم ایڈیشن عربی ) اور میں کی تعین بھی بتا رہی ہے کہ کوئی سچا بھی آسکتا ہے۔دوسرے:۔واضح رہے کہ اس حدیث کا مضمون آج سے قریباً ۵۵۰ (ساڑھے پانچ سو) سال پہلے پورا ہو چکا ہے اور مذکورہ ۳۰ دجال و کذاب گذر چکے ہیں جیسا کہ شرح مسلم میں لکھا ہے: فانه لَوْعُدَّ مَنْ تَنَبَّاً من زمنه صلى الله عليه وسَلَّمَ لبلغَ هذا العدد كه اگر جھوٹی نبوت کے دعویداروں کا شمار کیا جائے تو یہ تعداد ۳۰ کی پوری ہو چکی ہے۔اور تاریخ اسلام سے واقفیت رکھنے والا ہر شخص اسے جانتا ہے اگر شرح کے لمبا ہو جانے کا خوف نہ ہوتا تو ہم ان کے نام بھی لکھ دیتے۔(شرح مسلم لابی مالکی وسنوسی جلدے صفحہ ۲۵۸مصری) اور نواب صدیق حسن خان صاحب بھی اس موضوع پر تحریر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ۳۰ کڈ ابوں والی پیشگوئی پوری ہوچکی ہے۔حج الكرامه صفحه ۲۳۲) نواب صدیق حسن خان صاحب کی عبارت سے درج ذیل امور ثابت ہوتے ہیں: 1 حافظ ابن حجر نے کہا کہ وہ حدیثیں جن میں ۳۰ یا ۷۰ کذابوں کی خبر آئی ہے کہ وہ نبوت کا دعوی کریں گے ضعیف ہیں۔2 اگر صحیح بھی ہوں تو یہ اصل تعداد نہیں سمجھی جائیگی بلکہ اسے مبالغہ پر محمول کیا جائیگا۔نیز اس میں نبوت کے دعوی کی شرط نہیں ہے۔3 اصل تعداد کذابوں کی ۲۷ ہے جو مسند امام احمد میں عمدہ سند سے بیان ہوئی ہے۔بخاری کی حدیث کے الفاظ ۳۰ کے قریب کذاب ہونگے اسکے موئید ہیں کہ اصل تعداد کذابوں کی ۲۷ ہے۔48