صدق المسیح — Page 32
الاسْقَعَ بِهِ مَرْفُوْعًا كَذَا ذَكَرَهُ ابْنُ الرَّبِيعُ لَكِنْ قَوْلُ الْبُخَارِي سَهْوُ قَلَم أَمَّا 66 مِنَ النَّاقِل أَوْ مِنَ الْمُصَنَّفِ فَإِنَّ الْحَدِيْتَ لَيْسَ فِي الْبُخَارِيّ۔( موضوعات کبیر از مولا نا علی القاری صفحہ ۷س طبع ثانی صفحہ: ۱۳۴۶ھ مطبع مجتبائی دہلی) کہ حدیث سوڈان کے بہترین آدمی تین ہیں یعنی (۱) لقمان (۲) بلال (۳) محبع جو آنحضرت کے غلام تھے۔یہ حدیث بخاری میں واثلہ بن الاسقع سے مرفوعاً مروی ہے۔حضرت ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ علامہ ابن ربیع کا کہنا ہے یہ حدیث بخاری میں ہے یہ یا تو مصنف کا سہو قلم ہے اور یا کاتب کا کیونکہ یہ حدیث بخاری میں نہیں ہے۔معترض مولوی جو هَذَا خَلِيفَةُ اللهِ الْمَهْدِى“۔(ابن ماجہ جلد ٢ الكتاب الفتن باب خروج المهدی مطبوعہ ۱۳۶۷ھ ) والی حدیث کے بخاری میں نہ ملنے پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر کا ذب ہونے کا الزام لگاتے ہیں کیا وہ اپنے علامہ سعد الدین تفتازانی ملا و علامہ نسر وملا عبد الحکیم اور علامہ ابن الربیع کو بھی کا ذب کہیں گے؟ امام بیہقی کی کتاب ”الاسماء والصفات“ میں لکھا ہے کہ: كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ فِيْكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَامَامُكُمْ مِنكُمْ۔( رواه البخاری کہ بخاری میں ہے کہ كَيْفَ انتُمْ إِذَا نَزَلَ۔۔۔مِنَ السَّمَاء حالانکہ قطعاً بخاری میں من السَّمَاءِ کا لفظ نہیں ہے۔هَذَا خَلِيفَةُ اللهِ الْمَهْدِى حضرت مسیح موعود کی کتاب شہادۃ القرآن صفحہ ۴۱/ایڈیشن اول میں جو یہ لکھا ہے کہ یہ حدیث بخاری میں ہے۔اس کے متعلق بھی ہم وہی جواب دیتے ہیں جو حضرت ملا علی قاری نے امام ابن الربیع کی طرف سے دیا تھا۔وَلَكِنْ قُولُ الْبُخَارِي سَهْوُ قَلَم أَمَّا مِنَّ النَّاقِلِ أَوْ مِنَ المصنِّف۔( موضوعات کبیر صفحه: ۳۷) کہ یہ قول کہ ہر حدیث بخاری میں ہے یا تو سہو کتابت ہے یا سبقت قلم مصنف ورنہ 32 000000