صدق المسیح — Page 28
سال یعنی ۱۲۰۰ سو سال کے بعد علامات مکمل طور پر ظاہر ہوں گی اور وہی زمانہ مہدی کے ظہور کا ہے۔اس حدیث سے بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ فتنوں کے ظہور کا زمانہ تیرھویں صدی ہے اور ان فتنوں کو دور کرنے والے امام مہدی نے تیرھویں صدی ہجری کے آخر میں ہی ظاہر ہونا تھا۔ایک اور روایت یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِذَا مَضَتْ أَلْفٌ وَمِائَتَانِ وَأَرْبَعُوْنَ سَنَةً يَبْعَثُ اللهُ الْمَهْدِيَّ۔( النجم الثاقب جلد ۲ صفحه: ۲۰۹) کہ جب ۱۲۴۰ سال گزریں گے تب اللہ تعالیٰ امام مہدی کو مبعوث کر دیگا۔اس امر کی قرآن مجید سے بھی تائید ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يُدَبِّرُ الْأَمْرُ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ۔( سورة السجدہ رکوع : ۱) یعنی اللہ تعالیٰ آسمان سے زمین کی طرف تدبیر کریگا یا کرتار ہیگا پھر ایک عرصہ کے بعد وہ دین آسمان کی طرف چڑھ جائیگا جسکی مقدار ہمارے شمار کے مطابق ایک ہزار سال ہے۔سید نا رسول اکرم نے اسلام کی پہلی تین صدیوں کو خیر القرون قرار دیا ہے۔یقیناً یہی وہ عرصہ ہے جس کے بعد دین آسمان کی طرف چڑھ جانے والا تھا پھر پورا ایک ہزارسال گزرنے پر ازسرنو تد بیرامر ہونامقد تھی۔نیز جن بزرگان امت نے مسیح و مہدی کی آمد کا زمانہ تیرھویں وچودھویں صدی بتایا تھا اُن میں بعض کے نام بطور نمونہ تحریر ہیں: (۱) حضرت ابوقبیل ھانی بن ناصر المصری المتوفی ۱۲۸ھ (۲) نعمت اللہ ولی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ چھٹی صدی ہجری (۳) السید حضرت محمد بن عبد الرسول بن السيد الحسینی البدر في المدني الثاني المتوفى 28 000000