شہدائے احمدیت — Page 79
خطبات طاہر بابت شہداء 74 خطبہ جمعہ ۴ ارمئی ۱۹۹۹ء تھے۔انہوں نے چاہا کہ میں اپنے والدین کو جا کر لے آؤں۔بہت دلیر تھے۔لوگوں نے منع بھی کیا مگر وردی پہن کر عازم سفر ہو گئے۔آپ کے جانے سے تھوڑی دیر بعد ایک آدمی آیا اور اس نے کہا وہاں پر ایک نوجوان کا سر پڑا ہوا ہے۔جب تحقیق کی گئی تو وہ عبدالمجید خان صاحب کا سر تھا جو کھارا سے نکلتے ہی شہید کر دیئے گئے تھے۔مکرم بدر دین صاحب، گلاب بی بی صاحبہ اور محمد اسماعیل صاحب ایک شہادت مکرم بدر دین صاحب، ان کی اہلیہ گلاب بی بی صاحبہ اور ان کے بیٹے محمد اسمعیل کی ہے۔مکرم بدر دین صاحب قادیان کے قریب گاؤں سیکھواں کے رہنے والے تھے۔پیدائشی احمدی تھے۔ہر جمعہ با قاعدگی سے قادیان پیدل جا کر پڑھتے تھے۔آپ کی اہلیہ مکرمہ گلاب بی بی صاحبہ بھی پیدائشی احمدی تھیں۔آپ احمدیت کی خاطر ہر مشکل کو برداشت کرنے والی تھیں۔آپ کے بیٹے محمد اسمعیل صاحب نے والدین کی تربیت سے صالح ہونے کا مقام حاصل کیا تھا۔بہت نیک انسان تھے۔یہ بھی ہر جمعہ قادیان جایا کرتے تھے اور حفاظت مرکز کی ڈیوٹی بڑے شوق سے کرتے تھے۔واقعہ شہادت تقسیم ملک کے اعلان کے بعد گاؤں کے اکثر احمدی قادیان منتقل ہو چکے تھے لیکن ابھی گاؤں کلیہ نہیں چھوڑا تھا اچانک سکھوں نے گاؤں پر ہلہ بول دیا اور مسلمانوں کے گھروں پر قبضہ کر لیا اور ان کو گاؤں چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔مکرم ابراہیم صاحب بیان کرتے ہیں کہ میرے والد بدر دین صاحب، والدہ گلاب بی بی صاحبہ اور بھائی اسمعیل صاحب گاؤں سے ایک قافلے کے ساتھ قادیان آرہے تھے کہ قافلے پر سکھوں نے حملہ کر دیا۔میں خود اس قافلے میں شامل تھا۔وہاں پر میرے والد ، والدہ اور بھائی اسمعیل کو شہید کر دیا گیا۔حملہ کے وقت مجھے میرے والد صاحب نے اشارہ کیا کہ بھاگ جاؤ یعنی اپنے نکلنے کی وجہ یہ بیان کر رہے ہیں کسی بزدلی کی وجہ سے نہیں گیا تھا، والد کی اطاعت میں گیا ہوں۔کیونکہ وہ سمجھ گئے تھے کہ ان کا بچنا محال ہے۔پس غالبا اپنی نسل کو جاری رکھنے کی تمنا پوری کرنے کی خاطر انہوں نے اشارہ کیا کہ تم نکل جاؤ اور اللہ تعالیٰ نے ان کو توفیق دی کہ اس حملے کے باوجود اس گھیرے سے باہر آگئے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے بچ گئے۔مگر اثر یہ تھا کہ بدحواس ہو چکے تھے، کوئی ہوش نہیں رہی ، میں کون ہوں ، کہاں سے آیا ہوں، کیا ہوا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے مرحوم شہید باپ کی خواہش کو پورا کرنا تھا اور نسل کو جاری رکھنا تھا چنانچہ کچھ دوستوں کو ان کا