شہدائے احمدیت — Page 267
ضمیمہ 249 شہداء بعد از خطبات شہداء کے تین بھائی اور ایک بہن ہے۔آپ کے ایک بھائی مکرم ندیم احمد وسیم صاحب مربی سلسلہ ہیں۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند کرئے اور پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔مکرم غلام مصطفی محسن صاحب آف پیر محل ( تاریخ شہادت ۱۰ جنوری ۲۰۰۲ء) مکرم غلام مصطفی محسن صاحب المعروف جی۔ایم محسن آف ۳۴۲گ۔ب پیر محل ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ ۵۵ سال کی عمر میں مورخہ ۱۰ / جنوری ۲۰۰۲ ء کو شہید ہو گئے۔واقعات کے مطابق آپ کو ۱۰ جنوری ۲۰۰۲ء کی رات آپ کے گھر میں فائرنگ کر کے شہید کیا گیا۔بوقت شہادت آپ گھر میں اکیلے تھے اور فیملی بیرون شہر تھی۔پیشہ کے لحاظ سے آپ اسٹام فروش تھے اور پر جوش داعی الی اللہ تھے۔آپ ہر دلعزیز شخصیت کے مالک اور ہر وقت خدمت دین میں لگے رہتے اور روزنامہ الفضل کے پرچے آپ کی دکان ضلع کچہری میں موجود رہتے۔زیرتبلیغ لوگوں کو اکثر و بیشتر زیارت مرکز کیلئے لایا کرتے تھے۔۱۲ جنوری ۲۰۰۲ ء کو آپ کا جنازہ مسجد مبارک ربوہ میں ادا کیا گیا اور قبرستان نمبر 1 میں تدفین ہوئی۔پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ ایک بیٹا اور دو بیٹیاں یادگار چھوڑیں۔اکلوتا بیٹا مکرم طارق احمد محسن صاحب مربی سلسلہ ہیں بیٹیوں کے نام مکرمہ طاہرہ غزل صاحبہ اور مکر مہ حامدہ طلعت صاحبہ ہیں۔مکرم مقصود احمد صاحب آف فیصل آباد ( تاریخ شہادت یکم ستمبر ۲۰۰۲ء ) ہجویری ٹاؤن (بولے دی جھگی) فیصل آباد کے ایک فرد جماعت مکرم مقصود احمد صاحب ابن مکرم نور محمد صاحب مرحوم بعمر ۳۶ سال نامعلوم حملہ آوروں کی فائرنگ سے شہید ہو گئے۔حملہ آور صبح سواسات بجے آپ کے گھر داخل ہوئے اور آپ پر فائرنگ کر دی۔آپ کو فورا الائیڈ ہسپتال لے جایا گیا جہاں آپ اپنے مولی حقیقی کے حضور حاضر ہو گئے۔اسی روز بعد نماز عصر پہلے فیصل آباد میں نماز جنازہ ہوئی اور پھر ربوہ میں بعد نماز مغرب مسجد مبارک میں حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب