شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 236 of 297

شہدائے احمدیت — Page 236

خطبات طاہر بابت شہداء 226 خطبہ جمعہ ۲۳ جولائی ۱۹۹۹ء ختم ہونے والا سلسلہ ہے اس لئے آج اس جلسہ سے پہلے انشاء اللہ اس خطبہ میں جتنے بھی شہداء کا ذکر آئے گا اسی پر اکتفاء ہوگی اور باقی اگر کسی کے ذہن میں کوئی ایسے شہداء آئیں جو ان کے خیال میں شہداء میں شریک ہونے چاہئیں تو ان کو چاہئے کہ وہ تاریخ احمدیت میں وہ کوائف بھجوا دیں وہ خود فیصلہ کر لیا کریں گے۔مکرم مولوی سید محمد موسیٰ صاحب مبلغ اڑیسہ مولوی سید محمد موسیٰ صاحب مبلغ سلسلہ شہید، اڑیسہ (بھارت )۔تاریخ شہادت ۳ / دسمبر ۱۹۷۴ء کو دو دیگر خادمان سلسلہ کے ساتھ چندہ جات کی تحریک کے سلسلہ میں سفر پر تھے کہ ریلوے لائن عبور کرتے ہوئے ریل گاڑی کے نیچے آکر موقع پر ہی شہید ہو گئے۔انا لله و انا اليه راجعون۔شہید مرحوم ایک لمبا عرصہ ہندوستان کی سب سے بڑی جماعت کیرنگ اڑیسہ کے مبلغ رہے۔ایک مرتبہ گاؤں کے گھانس پھونس کے مکانات میں آگ بڑک اٹھی تو آپ کی دعا سے غیر متوقع طور پر بارش ہوگئی جس سے آگ بجھ گئی۔شہید مرحوم مکرم سید حسن علی صاحب سونگھڑوی کے چھوٹے بیٹے تھے۔آپ کے تین بڑے بھائی جماعت احمد یہ بھدرک ،سورو اور کٹک (اڑیسہ) کے صدر رہے ہیں یا صدر ہیں۔آپ کی کوئی اولاد نہیں تھی۔پسماندگان میں صرف بیوہ چھوڑی ہے۔مکرم عبدالمجید صاحب ربوہ عبدالمجید صاحب، ربوہ۔آپ مکرم عبدالکریم صاحب کے بیٹے تھے جو قادیان میں نلکا سازی کا کام کرتے تھے اور ربوہ کے بھی ابتدائی نلکا سازوں میں سے تھے۔دیکھیں کس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کو برکت دی اور آپ کی جو خدمت کا جذبہ تھا آپ کے کام آیا۔۱۹۴۳ء میں عبدالمجید صاحب گورداسپور میں پیدا ہوئے۔خدمت خلق تحریک کے تحت ۲۵/جنوری ۱۹۹۴ء کو غانا میں نلکے لگوانے کے پروگرام پر بھجوائے گئے۔جہاں آپ نے ایک سال تک خدمات وقف کیں۔واپسی کے سفر پر نیروبی قیام کے دوران بیمار ہو گئے اور اسی بیماری سے وطن پہنچنے سے پہلے دسمبر ۱۹۹۴ء میں وفات پائی۔انا لله و انا الیه راجعون۔تدفین کے لئے آپ کی میت ربوہ لے جائی گئی۔مکرم اے ٹی ایم حق صاحب اور مصطفیٰ علی صاحب بنگلہ دیش اے ٹی ایم حق صاحب شہید اور مصطفیٰ علی صاحب عرف تو میاں شہید ، بنگلہ دیش۔تاریخ