شہدائے احمدیت — Page 207
خطبات طاہر بابت شہداء 198 خطبہ جمعہ 9 جولائی ۱۹۹۹ء معجزانہ طور پر آپ کو بے قصور قرار دے کر بمع مراعات پنشن وغیرہ دے کر ریٹائر کر دیا گیا۔اصل میں شہادت ان کے مقدر میں تھی اس لئے یہ سارا سلوک ان سے کیا گیا۔دوسرے شہید مکرم رفیق احمد صاحب ثاقب ۱۹۵۲ء میں چک سکندر ضلع گجرات میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد کا نام خان محمد صاحب اور والدہ کا نام فتح بیگم صاحبہ تھا۔شہید مرحوم پیدائشی احمدی تھے۔آپ کے پڑدا دا مکرم محمد بوٹا صاحب اور دادا مکرم محمد بخش صاحب کو بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر حضور کے سفر جہلم کے دوران بیعت کی سعادت نصیب ہوئی تھی۔آپ فوج میں ملازم تھے اور شہادت کے وقت رخصت پر گاؤں آئے ہوئے تھے۔نبیلہ شہید مکرم مشتاق احمد صاحب کے ہاں چک سکند رضلع گجرات میں پیدا ہوئیں اور دس سال کی عمر میں جام شہادت نوش کر کے اپنے مولا کے حضور حاضر ہو گئیں۔ان سب کی شہادت ۱۶ / جولائی ۱۹۸۹ء کو ہوئی جب مخالفین احمدیت نے چک سکندر پر چاروں طرف سے حملہ کر دیا۔اس حملہ کے دوران احمدیوں کے قریباً ۶۴ مکانات جلائے گئے اور کھلے بندوں لوٹ مار کی گئی۔مکرم نذیر احمد ساقی شہید نے پسماندگان میں تین بیٹیاں اور دو بیٹے چھوڑے۔دو بیٹیوں کی شادی ہو چکی ہے اور باقی بچے نذیر شہید کی والدہ محترمہ کے زیر کفالت ہیں۔دوسرے شہید مکرم رفیق احمد صاحب ثاقب شہید نے اپنے پیچھے چھ بیٹیاں، دو بیٹے اور ایک بیوہ سوگوار چھوڑے جو اس وقت ربوہ میں مقیم ہیں۔مکرم ڈاکٹر عبدالقدیر جدران صاحب قاضی احمد نوابشاہ شہادت مکرم ڈاکٹر عبدالقدیر جدران صاحب۔تاریخ شہادت ۲ اگست ۱۹۸۹ء۔آر حضرت مولوی رحیم بخش صاحب آف تلونڈی جھنگلاں اور حضرت برکت بی بی صاحبہ کے ہاں ۱۹۲۴ء میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد بزرگوار ۳۱۳ صحابہ میں سے تھے۔آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے ڈاکٹری کا کورس پاس کیا اور کچھ عرصہ بطور واقف زندگی ناصر آباد اسٹیٹ کی ڈسپنسری میں خدمت بجالاتے رہے۔اس کے بعد پہلے اپنے بڑے بھائی مکرم ڈاکٹر عبدالقدوس صاحب شہید کے پاس نوابشاہ رہے اور پھر قاضی احمد ضلع نوابشاہ میں اپنا کلینک کھول لیا۔بوقف شہادت قاضی احمد کی جماعت