شہدائے احمدیت — Page 206
خطبات طاہر بابت شہداء 197 خطبہ جمعہ 9 جولائی ۱۹۹۹ء آپ کو وہیں شہید کر دیا۔انا للہ وانا اليه راجعون۔کمپوڈر گھر روتا ہوا آیا اور بتایا کہ ڈاکٹر صاحب کو کسی نے گولی ماردی ہے۔بہت ہجوم اکٹھا ہو گیا۔غم کا پہاڑ تھا جو اہل خانہ پر ٹوٹ پڑا۔بچے کہتے تھے کہ ابو کوکس نے مارا ہے اور کیوں مارا ہے؟ ایک بچہ کہتا کہ میں اُن کو گولی ماردوں گا۔دوسرا کہتا کہ وہاں اور لوگ بھی تو تھے انہوں نے ہمارے ابا ہی کو کیوں مارا۔اتنے چھوٹے تھے کہ ان باتوں کو سمجھ ہی نہیں سکتے تھے۔آپ کی بیوہ مکرمہ تنویر کوثر صاحبہ چاروں بچوں کے ساتھ اس وقت بیوت الحمد ربوہ میں رہائش پذیر ہیں۔سب بچے زیر تعلیم ہیں اور ان کے نام یہ ہیں۔منصورہ فرحت عمر پندرہ سال اور میٹرک میں زیر تعلیم ہے۔عدیل منور کی عمر تیرہ سال ہے اور آٹھویں میں زیر تعلیم ہے۔بیٹے وقاص احمد منور کی عمر بارہ سال ہے وہ ساتویں میں زیر تعلیم ہے۔بیٹا تو صیف احمد منور جو ڈاکٹر صاحب کی شہادت کے بعد پیدا ہوا تھا اس کی عمر قریباً گیارہ سال ہے اور وہ چھٹی جماعت میں پڑھتا ہے۔اللہ ان سب کو دنیا کی نعمتوں سے نوازے۔شہداء چک سکندر مکرم نذیر احمد صاحب ساقی مکرم رفیق احمد صاحب ثاقب اور عزیزہ نبیلہ نذیر احمد صاحب ساقی شہید چک سکندر ضلع گجرات۔رفیق احمد صاحب ثاقب شہید، چک سکندر ضلع گجرات اور عزیزہ نبیلہ بنت مکرم مشتاق احمد صاحب ، چک سکندر ضلع گجرات۔ان تینوں کی شہادت کا واقعہ یہ ہے کہ: مکرم نذیر احمد صاحب ساقی ۱۹۵۳ء میں مکرم محمود احمد صاحب کے ہاں چک سکندر ضلع گجرات میں پیدا ہوئے۔پیدائشی احمدی تھے۔آپ کے پڑدادا مکرم دلا خان صاحب اور دادا مکرم کالے خان صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر اس وقت بیعت کر کے سلسلہ میں داخل ہوئے جب آپ ایک مقدمہ کے سلسلہ میں جہلم تشریف لائے ہوئے تھے۔رضوان اللہ عليهم - آپ فوج میں ملازم تھے اور اچھے کھلاڑی اور باکسر تھے۔فوج سے آپ کی ریٹائر منٹ اس وجہ سے ہوئی کہ ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور احمدیت کے خلاف کسی کو باتیں کرتے ہوئے سن کر آپ برداشت نہ کر سکے اور اسے مکا مارا جس سے وہ وہیں مر گیا۔یہ جو واقعہ ہے حضرت موسیٰ کے مکا مارنے والے واقعہ کی یاد دلاتا ہے۔ان کو گرفتار کرلیا گیا اور کورٹ مارشل بھی ہوالیکن پھر