شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 203 of 297

شہدائے احمدیت — Page 203

خطبات طاہر بابت شہداء 194 مکرمہ رخسانه طارق صاحبه مردان خطبہ جمعہ 9 جولائی ۱۹۹۹ء شہادت رخسانه طارق صاحبه شهیده، مردان: رخسانه طارق صاحبہ ۱۹ جون ۱۹۸۶ء کو عید کے دن شہید کی گئیں۔ان کے والد کا بیان ہے کہ ایک عجیب بات ہے جو میں نے رخسانہ میں دیکھی وہ شادی کے چند دن بعد ہی اپنا جہیز بانٹنے سے تعلق رکھتی ہے۔مجھ سے اجازت لے کر سارا سامان غریب لڑکیوں میں تقسیم کر دیا۔پوچھنے پر کہنے لگیں کہ میں نے امی جان سے کہا تھا کہ مجھے صرف ایک چار پائی دے دیں۔زندگی فانی ہے، اس کا کیا بھروسہ ہے؟ جتنی بھی غریبوں کی خدمت کرلوں مجھے راحت آتی ہے۔ان کے میاں طارق صاحب بتاتے ہیں کہ غریبوں کی خدمت کر کے ان کے چہرے پر اتنی خوشی چمکتی تھی جیسے سورج نکل آیا ہو۔عید کے دن رخسانہ نے عید پر جانے کا ارادہ ظاہر کیا مگر طارق کے بڑے بھائی نے مخالفت کی اور ڈانٹ کر منع کر دیا مگر یہ نہ رکیں اور پرانے کپڑوں میں ہی عید کی نماز کے لئے چلی گئیں حالانکہ شادی کے بعد یہ ان کی پہلی عید تھی۔عید کی نماز میں وہ بہت روئیں مگر گھر واپس آتے ہوئے بہت خوش تھیں۔سب کے لئے ناشتہ تیار کیا۔ان کے خاوند بتاتے ہیں کہ میں حیران تھا آج اتنی خوش کیوں ہیں؟ گھر میں سب کو خوشی سے ملیں۔ہمیں کیا معلوم تھا کہ یہ ان کے آخری لمحات ہیں۔معلوم ہوتا ہے ان کو شہادت کی اطلاع مل چکی تھی۔اتنے میں طارق کا بڑا بھائی آیا اور آتے ہی اس نے رخسانہ پر گولیوں کی بارش برسادی۔طارق کا بیان ہے کہ مجھے اکثر کہا کرتی تھیں کہ جب میں اللہ کو پیاری ہو جاؤں تو مجھے پہاڑوں کے دامن میں دفن کرنا۔وہ ربوہ ہی کے پہاڑ تھے جہاں پر وہ بالآخر دفن کی گئیں۔شہیدہ کا تعلق سرگودھا سے تھا۔آپ مکرم مرزا خان محمد صاحب کی بیٹی تھیں۔آپ کے شوہر اپنے سر مرزا خان محمد صاحب کے پاس سرگودھا میں مقیم ہیں۔مکرم با بومحمد عبد الغفار صاحب حیدر آباد شہادت با بومحمد عبد الغفار صاحب شہید، حیدر آباد۔یوم شہادت ۱۹ جولائی ۱۹۸۶ء۔آپ ماسٹر خدا بخش صاحب کے ہاں کا نپور ( انڈیا ) میں ۱۹۰۶ء میں پیدا ہوئے۔۱۹۱۶ء میں ان کے والد صاحب نے تمام افراد خانہ سمیت حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کے ہاتھ پر شرف بیعت حاصل کیا۔تقسیم ملک کے وقت آپ ہجرت کر کے حیدر آباد (سندھ) میں آکر آباد ہو گئے۔پیشہ کے اعتبار سے آپ