شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 202 of 297

شہدائے احمدیت — Page 202

خطبات طاہر بابت شہداء 193 خطبہ جمعہ 9 جولائی ۱۹۹۹ء کارکن دار الافتاء اور مکرم مجحم الحق صاحب مرحوم امیر ضلع کے بھائی تھے۔اوصاف حمیدہ : نو عمری ہی میں آپ نظام وصیت سے منسلک ہو گئے تھے۔نماز روزہ کی بڑے خلوص سے پابندی کرتے تھے۔بہت کم گو اور سنجیدہ مزاج تھے۔سکھر میں قائمقام امیر اور زعیم انصار اللہ کے طور پر سلسلہ کی خدمات کی توفیق پائی۔واقعہ شہادت : یکم رمضان المبارک مطابق ۱۱ مئی ۱۹۸۶ء کی صبح سات بجے آپ اپنے گھر سے سکول جانے کے لئے پیدل روانہ ہوئے۔کراچی کے ایک نو مبائع خادم مکرم راؤ خالد سلیمان صاحب بھی آپ کے ہمراہ تھے۔رستہ میں منارہ روڈ کے چوک کے قریب پانچ نامعلوم افراد نے اچانک آپ پر خنجروں اور کلہاڑیوں سے حملہ کر دیا۔مکرم خالد سلیمان صاحب کچھ دیر تک ان حملہ آوروں کے خلاف دفاع کرتے رہے۔مگر حملہ آوروں نے پستول سے گولیاں چلا کر اور خنجروں اور کلہاڑیوں سے پے در پے وار کر کے دونوں کو شہید کر دیا۔انا للہ وانا اليه راجعون۔بوقت شہادت آپ کی عمر ۳ ۵ سال تھی۔پولیس میں اس واقعہ کی رپورٹ درج کروائی گئی لیکن کوئی قاتل گرفتار نہیں کیا گیا۔۲ رمئی ۱۹۸۶ ء کی شام دونوں شہداء کے جنازے ربوہ میں لائے گئے جہاں نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد شہداء کے قبرستان میں تدفین ہوئی۔پسماندگان میں آپ نے بیوہ کے علاوہ ایک بیٹا اور تین بیٹیاں یادگار چھوڑی ہیں۔بیٹا انوار الحق منیب غیر شادی شدہ ہیں اور آسٹریلیا میں مقیم ہیں۔تین بیٹیوں میں سے بڑی سیدہ عطیہ سلطانہ صاحبہ مکرم مسرور مصطفیٰ صاحب کی اہلیہ ہیں اور لاہور میں رہتی ہیں۔دوسری بیٹی تنویر قمر، مکرم مدثر احمد صاحب ملک کی اہلیہ ہیں اور کیلگری ( کینیڈا) میں آباد ہیں۔تیسری بیٹی شمرین قمرا بھی غیر شادی شدہ ہیں اور والدہ کے ساتھ کراچی میں رہتی ہیں۔مکرم راؤ خالد سلیمان صاحب گوجرہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے رہنے والے تھے۔خاندان میں اکیلے احمدی تھے۔شہادت سے دو تین سال پہلے بیعت کی لیکن اپنے اخلاص سے السابقون الاولون میں شمار ہونے لگے۔کراچی میں ملازم تھے اور سکھر میں حالات کے پیش نظر مقامی جماعت کی امداد کے لئے رضا کارانہ طور پر آئے تھے۔آپ غیر شادی شدہ تھے اور کوئی اولا د پیچھے نہیں چھوڑی۔