شہدائے احمدیت — Page 183
خطبات طاہر بابت شہدا 176 خطبہ جمعہ ۲ جولائی ۱۹۹۹ء شہادت کے بعد ان کی بیوی کے سسرال والوں نے جو غیر احمدی تھے بیوی سے کہا کہ احمدیت چھوڑ دو تو ہم تمہیں پناہ دیں گے۔دشمن بھی دھمکیاں دیتے رہے کہ احمدیت چھوڑ دو اور ہمارے ساتھ مل جاؤ لیکن انہوں نے ان سب باتوں کو حقارت سے رد کر دیا اور ان سے کہا کہ جو کچھ کر سکتے ہو کر گز رو کسی قیمت پر بھی میں احمدیت کو نہیں چھوڑوں گی جس کی خاطر میرے شوہر کو آپ نے شہید کیا ہے۔پسماندگان میں بیوہ ، دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔شہید کے بڑے بیٹے عتیق الرحمان صاحب آسٹریلیا میں مقیم ہیں اور شادی شدہ ہیں۔بڑی بیٹی رضیہ بیگم صاحبہ بھی شادہ شدہ ہیں۔باقی بچے والدہ کے ہمراہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں آباد ہیں۔عہد خلافت رابعہ کے شہداء یہ خلافت ثالثہ کے بقیہ شہداء کا ذ کر تھا۔اب خلافت رابعہ کے شہداء کی پہلی پیش کی جارہی ہے۔ماسٹر عبدالحکیم صاحب ابڑ ولاڑکانہ محترم ماسٹر عبدالحکیم ابرو شہید دور خلافت رابعہ کے پہلے اور سندھ میں سندھی قوم کے بھی پہلے شہید ہیں۔۱۰ را پریل ۱۹۳۲ء کو پیدا ہوئے۔نہایت غربت اور تنگدستی میں پرورش پائی اور ایام طفولیت میں ہی شفقت پدری سے محروم ہو گئے۔ملازمت کے ساتھ ساتھ تعلیم جاری رکھتے ہوئے سندھ یو نیورسٹی سے ایم۔اے، ایم۔ایڈ پاس کر لیا۔قرآن کریم کے عاشق تھے۔گھر میں بچوں کو اس وقت تک ناشتہ کی اجازت نہ تھی جب تک تلاوت قرآن کریم نہ کرلیں۔تبلیغ کے شیدائی تھے اور کوئی موقع پیغام حق پہنچانے کا ہاتھ سے نہ جانتے دیتے تھے۔حتی کہ سرکاری دفاتر میں جماعتی اخبارات اور رسائل جاری کروا دیئے۔خلافت احمدیہ سے آپ کو عشق تھا۔خود بھی بار بار مرکز تشریف لاتے اور دوسروں کو بھی نہ صرف تلقین کرتے بلکہ بعض کے سفر کے اخراجات بھی خود برداشت کرتے۔بوقتِ شہادت جماعت احمد یہ وارہ کے صدر تھے۔واقعہ شہادت : ۱۲ / اپریل ۱۹۸۳ء کو صبح دو بجے کے قریب دو آدمی آپ کے گھر میں گھس آئے۔ان کے پاس کلہاڑیاں تھیں۔ان کا ارادہ ابتدا صرف آپ کو ختم کرنا تھا۔آپ اس وقت سو رہے تھے۔انہوں نے آپ پر کلہاڑیوں کے پے در پے وار کئے۔حملہ آوروں اور شہید کی آوازیں سن