شہدائے احمدیت — Page 182
خطبات طاہر بابت شہدا 175 خطبہ جمعہ ۲ جولائی ۱۹۹۹ء موعودؓ کے خطبات اور کتب کا مطالعہ بھی کرتے رہے۔احمدیت قبول کرنے سے قبل آپ کر اہل حدیث تھے۔آپ چونکہ عرائض نو لیس تھے اس لئے جو لوگ آپ کے پاس درخواستیں لکھوانے کی غرض سے آتے ، آپ انہیں تبلیغ کرتے رہتے۔بعض اوقات انہیں کہتے کہ الفضل کا یہ صفحہ پڑھ کر سناؤ تو تمہارے درخواست لکھنے کا معاوضہ نہیں لوں گا۔جس دن آپ کی شہادت ہوئی اس سے پہلے تمام رات خدا تعالیٰ کی عبادت میں گزاری۔آپ شہادت کے روز یعنی ۱۳ راگست ۱۹۷۹ء کو دن کے تقریبا ساڑھے نو بجے گھر سے کچہری کی طرف تشریف لے جارہے تھے کہ دشمن نے آپ کا گلا کاٹ کر آپ کو شہید کر دیا۔انا لله وانا اليه راجعون۔خدائی انتقام : قاتل کے قید ہونے پر گو اس کے خاندان نے اسے بغرض علاج ضمانت پر تو رہا کرالیا تھا لیکن تقدیر الہی غالب آ کر رہی اور قاتل پاگل ہو گیا اور گھر والوں کے لئے اور علاقہ کے لئے وحشت وخوف اور دہشت کی ایک علامت بن گیا۔گھر والے اسے مقفل رکھتے۔پھر اس کے خاندان نے مختلف ذرائع سے اس کے قول و فعل کی ذمہ داری سے اعلانیہ بریت کا اعلان کر دیا اور اسے آزاد چھوڑ دیا۔قاتل احمدی کا روباری حضرات کی دکانوں کے سامنے ہاتھ جوڑ کر پہروں کھڑا رہتا تھا۔شاید ضمیر کی ملامت کی وجہ سے یا الہی پکڑ کے خوف سے۔پھر عرصہ سات سال گیارہ ماہ اور ہیں دن کی ذلت آمیز زندگی گزارنے کی بعد قاتل نے ۳ / مارچ ۱۹۸۷ء کو نشہ آور دوائیں کھا کر خوش کشی کر لی۔ہر شریف النفس شہری قاتل کی موت کو الہی قہر گردانتا ہے۔اور وہ علاقہ کے لئے عبرت کا نشان بن گیا۔قاتل کے خاندان کا شیرازہ بکھر چکا ہے۔والد کبر سنی اور جوان اولاد کی نا گہانی اور قہری موت کی وجہ سے حواس باختہ ہو چکا ہے اور سارا خاندان ہی قہر الہی کا نشانہ بن چکا ہے۔مکرم چودھری مقبول احمد صاحب پنوں عاقل چودھری مقبول احمد صاحب، پنوں عاقل سندھ۔تاریخ شہادت ۱۹ فروری ۱۹۸۲ء۔مقبول شہید کی بیگم صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ میرے شوہر مقبول احمد نے ۱۹۶۷ء میں بیعت کی۔احمدیت قبول کرنے کے بعد مولوی آپ کو بہت تنگ کرتے ، دھمکیاں دیتے ، رات کو گھروں پر پتھراؤ کرتے اور دروازے کھٹکھٹاتے تھے۔آپ کا لکڑی کا آرا تھا۔ایک دن ایک نقاب پوش لکڑی خریدنے کے بہانے آیا اور خنجر نکال کر آپ پر پے در پے وار کئے اور وہیں شہید کر دیا۔