شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 179 of 297

شہدائے احمدیت — Page 179

خطبات طاہر بابت شہدا 172 خطبہ جمعہ ۲ جولائی ۱۹۹۹ء کے بعد آپ کے والد صاحب تلاش معاش کے سلسلہ میں مختلف جگہوں پر کام کرتے رہے۔شہادت کے وقت آپ اور آپ کے والدین چک نمبر ۴۵ مرڈ نز د سانگلہ ہل ضلع شیخو پورہ میں مقیم تھے۔آپ کو دعوت الی اللہ کا بہت شوق تھا۔چک نمبر ۴۵ مرڈ کے ایک سکول ٹیچر مکرم را نا محمد لطیف صاحب جب آپ کی کوششوں کے نتیجہ میں احمدی ہوئے تو گاؤں کے لوگ کھلے عام آپ کی مخالفت کرنے لگے۔۲۲ راگست ۱۹۷۸ء بمطابق ۷ار رمضان المبارک صبح کے وقت آپ کے غیر احمدی چا ملک محمد رمضان صاحب سانگلہ ہل سے دوائی لے کر آرہے تھے۔رستہ میں ان پر ان کے دشمنوں نے حملہ کیا مگر وہ تانگہ پر ہونے کی وجہ سے معمولی زخمی ہوئے۔مخالف لاٹھیوں اور برچھیوں سے مسلح تھے۔وہ پیچھا کرتے ہوئے چلے آئے۔مکرم ملک محمد انور صاحب اور آپ کے والد صاحب نے جب گلی میں شور سنا تو گھر سے باہر نکل آئے کہ معلوم ہو کیا معاملہ ہے۔ان کے چا پر حملہ آور ہونے والوں نے جب ان کو دیکھا تو انہوں نے ان کے چا کو چھوڑ دیا اور ان کو اور ان کے والد صاحب کو گھیرے میں لے کر ان پر لاٹھیوں اور برچھیوں سے حملہ کر دیا۔جب آپ شدید زخمی ہو کر گر پڑے تو یہ نعرہ لگاتے ہوئے اور بھنگڑا ڈالتے ہوئے بھاگ گئے کہ ایک مرزائی کو ہم نے لے لیا مگر دوسرا بچ گیا ملک محمد انور صاحب کو انتہائی زخمی حالت میں فوری طور پر سانگلہ ہل سے فیصل آباد ہسپتال پہنچایا گیا جہاں پر مکرم ڈاکٹر ولی محمد صاحب نے آپ کا آپریشن کیا مگر تی کٹ جانے کے باعث آپ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسی رات اپنے مولائے حقیقی کے حضور حاضر ہو گئے۔بوقت شہادت آپ کی عمر چونتیس سال تھی۔انا لله وانا اليه راجعون۔ملک محمد شفیع صاحب کو بھی اپنے بیٹے کو بچاتے ہوئے شدید زخم آئے مگر وہ شہادت ان کے نصیب میں نہ تھی اور ان کے بیٹے کو عطا ہو گئی۔پسماندگان : شہید مرحوم کی بیوہ کا نام صدیقہ بیگم تھا۔بیٹا ملک محمد سرور اور والد ملک محمد شفیع صاحب جو محلہ دارالعلوم شرقی ربوہ میں رہتے ہیں۔مولوی نوراحمد صاحب آف کوریل کشمیر مولوی نور احمد ولد غلام محمد جو صاحب موضع کوریل ضلع اسلام آباد ( مقبوضہ کشمیر )۔تاریخ شہادت ۵/ اپریل ۱۹۷۹ ء۔مولوی نور احمد پیدائشی احمدی تھے۔پرائمری کے بعد قادیان گئے اور