شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 178 of 297

شہدائے احمدیت — Page 178

خطبات طاہر بابت شہدا 171 خطبہ جمعہ ۲ جولائی ۱۹۹۹ء عہد خلافت ثالثہ اور خلافت رابعہ کے شہداء (خطبہ جمعہ فرمودہ ۲ جولائی ۱۹۹۹ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورۂ فاتحہ کے بعد حضور نے سورۃ بقرہ کی یہ آیات تلاوت فرمائیں: ياَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّبِرِينَ وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِنْ لَّا تَشْعُرُونَ (البقرة :۱۵۴ - ۱۵۵) اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ سے مدد طلب کرتے رہو صبر اور صلوٰۃ کے ساتھ۔یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔اور جو اللہ کی راہ میں قتل کئے جائیں انہیں مردے نہ کہو بلکہ وہ تو زندہ ہیں لیکن تم شعور نہیں رکھتے۔شہداء کے ذکر کے تسلسل میں پہلے چند خلافت ثالثہ کے شہداء کا ذکر کیا جائے گا جو پہلے ہونے سے رہ گیا تھا بعد میں خلافت رابعہ کے شہدا کا ذکر شروع کیا جائے گا۔ملک محمد انور صاحب سانگلہ ہل ملک محمد انور صاحب ابن ملک محمد شفیع صاحب تاریخ شہادت ۲۲ / اگست ۱۹۷۸ء۔آپ ۱۹۴۵ء میں قادیان میں مکرم محمد شفیع صاحب کے ہاں پیدا ہوئے۔آپ اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے۔آپ کے دادا محترم ملک محمد بوٹا صاحب حضرت مسیح موعود کے رفقاء میں سے تھے۔تقسیم ہند