شہدائے احمدیت — Page 175
خطبات طاہر بابت شہداء 168 خطبہ جمعہ ۲۵/ جون ۱۹۹۹ء نصیب ہیں۔آپ کی بیوہ امانت بی بی صاحبہ موسیٰ والا میں بقید حیات ہیں۔ان کے علاوہ آپ نے پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں۔مکرم عبدالستار زمیندارہ کرتے ہیں۔مکرم فرزند علی صاحب آرمی ریٹائر ڈ ہیں اور موسیٰ والا میں مقیم ہیں۔مکرم اصغر علی صاحب بھی آرمی ریٹائر ڈ ہیں اور طاہر آباد در بوہ میں رہائش پذیر ہیں۔مکرم محمد یعقوب صاحب ایر فورس سے ریٹائر ڈ ہیں اور اس وقت لاہور میں مقیم ہیں۔مکرم ارشد علی صاحب جرمنی میں مقیم ہیں۔بیٹیوں میں سے ایک رضیہ صاحبہ لیہ میں اور دوسری صفیہ صاحبہ فیصل آباد میں بیاہی گئی ہیں۔چودھری محمد صدیق صاحب کے پسماندگان میں آپ کی بیوی عائشہ بی بی صاحبہ زندہ ہیں اور موصیہ ہیں۔اولاد تین بیٹوں اور تین بیٹیوں پر مشتمل ہے۔تینوں بیٹے اکبر علی صاحب، ناصر احمد صاحب اور محمود احمد صاحب بھرو کے خورد ضلع سیالکوٹ میں زمیندارہ کرتے ہیں۔بیٹیوں میں محترمہ شریفاں بی بی صاحبہ ہارون آباد ضلع بہاولنگر میں اور سکینہ بی بی صاحبہ اور عزیزہ بی بی صاحبہ دونوں موسیٰ والا میں بیاہی ہوئی ہیں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے تمام بچے صاحب اولا د اور خوشحال ہیں۔مکرمہ رشیدہ بیگم صاحبہ سانگلہ ہل رشیدہ بیگم صاحبہ - تاریخ شہادت ۹ / اگست ۱۹۷۸ء۔قاری عاشق حسین صاحب کے تحریر کردہ حالات کے مطابق ان کی بیگم رشیدہ بیگم صاحبہ سانگلہ ہل شہر کی رہنے والی تھیں۔ان کے والدین چادر چک نزد مریم آباد ضلع شیخو پورہ کے رہنے والے تھے ، زمیندارہ پیشہ کرتے تھے۔اچھا کھاتا پیتا گھرانہ تھا۔آپ دنیاوی تعلیم تو حاصل نہ کر سکیں البتہ قرآن کریم ناظرہ اچھی طرح پڑھا ہوا تھا اور بہت سارے بچوں اور بچیوں کو بھی پڑھایا کرتی تھی۔قبول احمدیت : ۱۹۷۶ء میں جب قاری صاحب نے خدا تعالیٰ کی بشارات کے مطابق سلسلہ عالیہ احمدیہ میں شامل ہونے کی توفیق پائی تو رشیدہ بیگم صاحبہ کو بتایا کہ میں تو خدا تعالیٰ کی بشارات کے تحت احمدی ہو گیا ہوں، اگر آپ بھی احمدیت کو قبول کر لیں تو بہت اچھا ہو ، ورنہ مذہب میں جبر نہیں ہے۔اس بات پر وہ خاموش ہو گئیں۔کچھ دیر کے بعد کہنے لگیں کہ ابھی نہیں پھر بتاؤں گی۔اسی حالت میں کچھ عرصہ گزر گیا۔ایک دن ان کے والد اور چا اور کچھ اور لوگ گاؤں سے آئے اور رشیدہ بیگم صاحبہ سے گفتگو