شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 169 of 297

شہدائے احمدیت — Page 169

خطبات طاہر بابت شہداء 162 خطبہ جمعہ ۲۵ / جون ۱۹۹۹ء شرانگیزی کا سلسلہ شروع ہو گیا اور مولوی ہر روز لاؤڈ سپیکروں پر جماعت اور بانی جماعت کے خلاف زہر اگلنے لگے۔چنانچہ ۱۹۷۴ء کے پُر آشوب حالات میں جہلم شہر میں ایک اوباش نو جوان قتل ہوا تو مولویوں نے قتل کا الزام احباب جماعت پر لگا کر جماعت کے خلاف مزید اشتعال انگیزی شروع کر دی۔مساجد کے سپیکروں اور بازاروں میں قتل و غارت اور لوٹ مار کے بار بار اعلانات کئے گئے۔ایک احمدی سیٹھی عطاء الحق صاحب ایڈووکیٹ کو بھی قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔اس اشتعال انگیزی کے نتیجہ میں احمدی احباب کے چار گھرانوں اور اڑتالیس (۴۸) کاروباری مراکز کولوٹا گیا اور بعد میں آگ لگادی گئی۔جب چار دکانوں کو آگ لگائی گئی تو مخالفین کی ملحقہ کچھ دکا نہیں بھی آگ کی لپیٹ میں آگئیں۔جس پر وقت کے ایس۔پی چودھری محمد رمضان نے اعلان کیا کہ اب آگ نہ لگائیں اس طرح مسلمانوں کی دکانوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے،صرف سامان لوٹیں۔ایک دکان کا تالا الیں۔پی نے خود اپنے پستول سے فائر کر کے توڑا اور دکان لوٹی۔اسی دوران اسلحہ برا در جلوس پولیس کی نگرانی میں سیٹھی مقبول احمد صاحب کے گھر حملہ آور ہوا اور اندھا دھند فائرنگ کر کے سیٹھی مقبول احمد صاحب کے دو بھائی اور بھا وجہ کو شدید زخمی کر دیا۔ان کے بھائی سیٹھی محبوب احمد صاحب کی ایک آنکھ ہمیشہ کے لئے ضائع ہوگئی۔جلوس دروازہ توڑ کر گھر کے اندر داخل ہو گئے اور سیٹھی مقبول احمد صاحب جلوس کی فائرنگ کی زد میں آکر موقع پر ہی شہید ہو گئے۔انا للہ وانا اليه راجعون۔ورثا: شہید مرحوم شہادت کے وقت بیوہ اور ایک بیٹا ممتاز احمد سیٹھی جس کی عمر دو سال تھی چھوڑ گئے۔اور شہادت کے دوماہ بعد دوسرا بیٹا مقبول ثانی پیدا ہوا جو کہ آج کل رشیا میں میڈیکل فائنل ائیر میں پڑھ رہا ہے۔بڑا بیٹا ممتاز احمد سیٹھی آسٹریلیا میں یو نیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ان کے بھائی محبوب احمد سیٹھی صاحب نے ان کی شہادت کے بعد ان کی بیوہ سے شادی کر لی اور بچوں کو اپنی کفالت میں لے لیا۔مجلس تحفظ ختم نبوت کا سیکرٹری نشر و اشاعت مولوی حافظ محمد اکرم جو کہ جہلم شہر میں اشتعال انگیزی میں پیش پیش تھا اسے ذیا بیطس کی بیماری لگی۔جسم گلنا سڑنا شروع ہو گیا۔بیوی بچوں نے چھوڑ دیا، کوئی تیماداری کرنے والا نہ تھا۔اسلام آباد میں ایک مکان میں اس کی وفات ہوئی جس کا تین