شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 157 of 297

شہدائے احمدیت — Page 157

خطبات طاہر بابت شہداء 149 خطبہ جمعہ ۱۸؍ جون ۱۹۹۹ء بیٹھا اور کتے کی طرح بھونکنے لگا۔ایک ماہ بعد اس کے گھر والوں نے اسے زنجیر سے باندھ دیا۔تین چار روز بعد وہ غضب الہی کا مورد ٹھہر کر اسی حالت میں مر گیا۔مکرم نقاب شاہ مہمند صاحب مردان مکرم نقاب شاہ مہمند صاحب ولد محمد شاہ آف مردان۔تاریخ شہادت ۸/ جون ۱۹۷۴ء۔آپ با زید خیل کے رہنے والے تھے۔آپ کے والد کا نام محمد شاہ تھا جو احمدی نہیں تھے مگر آپ کے دادا گل فراز صاحب غیر مبائع احمدی تھے۔واقعہ شہادت: نقاب شاہ مہمند صاحب ۱۸ جون ۱۹۷۴ء کو پشاور کے اندر دن کے ایک بجے سائیکل پر جاتے ہوئے ۳۷ سال کی عمر میں شہید کر دئے گئے۔اناللہ واناالیه راجعون۔آپ ٹیچر تھے اور ٹیچر ایسوسی ایشن کے صدر تھے۔آپ مکرم الطاف خان صاحب کے داماد تھے۔شہید کرنے والا بظاہر ان کا دوست تھا۔جب کسی نے پکڑنے کی کوشش کی تو اس نے آواز دی کہ قادیانی تھا مار دیا میرا پیچھا کرنے کی کوشش نہ کرو۔ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔اہلیہ زندہ ہیں اور امریکہ جاچکی ہیں۔صو بیدار غلام سرور صاحب اور مکرم اسرار احمد خاں صاحب ٹوپی صو بیدار غلام سرور صاحب اور ان کے بھتیجے اسرار احمد خاں صاحب آف ٹوپی ضلع مردان۔یوم شہادت ۱۹ جون ۱۹۷۴ء۔صوبیدار غلام سرور صاحب کا آبائی گاؤں مینی ہے جو ٹوپی سے دس کلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔آپ پاک فوج کے محکمہ انٹیلی جنس میں امیر یا افسر تھے۔ٹوپی میں جب حالات خراب ہورہے تھے تو ایک غیر احمدی بوڑھے شخص نے جو لکڑی کا کام کرتا تھا، آپ کو بتایا کہ لوگ آپ کو قتل کرنے کا پروگرام بنا چکے ہیں اسلئے آپ کہیں اور چلے جائیں۔آپ نے اس کو جواب دیا کہ اگر مجھے دین حق کی خاطر شہادت نصیب ہو جائے تو اس سے بڑھ کر اور کونسی خوش بختی اور سعادت ہوگی۔واقعہ شہادت:۹/ جون ۱۹۷۴ء کوٹوپی قصبہ کے محلہ خوشحال آباد میں شر پسندوں نے قتل و غارت، لوٹ مار اور آتشزدگی کا بازار گرم کئے رکھا۔اس دن آٹھ احمدیوں کو شہید کیا گیا اور ستر سے زائد مکانات، ڈیوڑھیاں، حجرے، بنگلے اور دکانیں تباہ کی گئیں۔آپ اور آپ کا بھتیجا اسرار احمد گھر پر ہی موجود رہے۔آپ کے مکانوں کی پچھلی طرف واقع قبرستان کی طرف سے پر جوش ہجوم کے لوگ