شہدائے احمدیت — Page 156
خطبات طاہر بابت شہداء 148 خطبہ جمعہ ۱۸؍ جون ۱۹۹۹ء ان کے والد فضل دین صاحب اور والدہ محترمہ سراج بی بی صاحبہ بہت نیک اور مخلص احمدی تھے۔ان کے پسماندگان میں بیوہ حنیفاں بی بی صاحبہ، ایک بیٹا محمد انور اور دو بیٹیاں نسیم اختر اور کوثر پروین صاح ہیں۔بیٹا آسٹریلیا میں اور باقی خاندان ربوہ میں آباد ہے۔مکرم محمد الیاس عارف صاحب شہادت محمد الیاس عارف صاحب۔آپ ۱۰ اکتوبر ۱۹۴۵ء کو مکرم ماسٹر محمد ابراہیم شاد صاحب کے ہاں مومن، ضلع شیخو پورہ میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم آپ نے چک چھور میں حاصل کی پھر اسلامیہ کالج خانیوال سے ایف۔اے اور بی۔اے کیا۔واقعہ شہادت: ۱۹۷۴ء کی تحریک مخالفت میں آپ واہ کینٹ میں تھے۔جب ٹیکسلا میں احمدیت دشمن تحریک نے شدت اختیار کی تو وہاں کرائے کے غنڈوں اور قاتلوں میں اسلحہ تقسیم کر دیا گیا اور احمدیوں کے مکانوں پر نشان لگا دیئے گئے۔آپ کے مکان پر بھی نشان لگا دیا گیا۔۴ جون ۱۹۷۴ء کو آپ نے اپنے چھوٹے بھائی محمد اسحاق ساجد صاحب کے ہمراہ اپنی بیوی بچوں کو واپس اپنے گاؤں بھیجنے کا فیصلہ کیا اور صبح سات بجے ٹیکسلا سے انہیں بس پر بٹھایا۔خود گھر جا کر ناشتہ کیا۔اپنی سائیکل لی۔مکان کو تالا لگایا اور چابی مالک مکان کو دیتے ہوئے کہا کہ تین چار بجے واپس آ جاؤں گا۔لیکن ابھی آپ گھر سے ڈیڑھ فرلانگ کے فاصلہ تک ہی پہنچے تھے کہ وہاں تین مولوی اور ایک کرائے کا قاتل گھات میں تھے۔مولویوں نے اس کرائے کے قاتل کو اشارہ کیا۔چنانچہ اس نے رائفل سے فائر کیا۔گولی شہید مرحوم کے سینے میں لگی اور آپ موقع پر وہیں جام شہادت نوش کر گئے۔انالله وانا اليه راجعون آپ کی تدفین اولاً چک چھور میں ہوئی پھر حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی خاص اجازت سے ۱۹۷۵ء میں تابوت ربوہ لایا گیا اور مقبرہ شہداء میں دفن کیا گیا۔شہید مرحوم اپنے پیچھے ایک بیٹی ، ایک بیٹا اور بیوہ چھوڑ گئے۔بیٹی کی شادی ہو چکی ہے اور بیٹا عطاء القیوم عارف آج کل آسٹریلیا میں شہید مرحوم کی اہلیہ ثریا بیگم بیان کرتی ہیں کہ مجھے ہمارے مالک مکان غزن خان نے بتایا کہ شہید مرحوم کی شہادت کے کچھ عرصہ بعد قاتل کو ایک پاگل کتے نے کاٹا جس سے وہ ذہنی توازن کھو