شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 107 of 297

شہدائے احمدیت — Page 107

خطبات طاہر بابت شہداء 98 خطبہ جمعہ ۲۸ رمئی ۱۹۹۹ء مشن میں مقیم تھے اور تبلیغ اسلام میں ہمہ تن مصروف عمل تھے کہ ۶ امئی ۱۹۷۲ء کو داعی اجل نے پکارا اور آپ نے اپنی جان مولائے حقیقی کے حضور پیش کر دی۔انالـلـه وانا اليه راجعون - عبدالرحمن صاحب بنگالی کی ایک بیٹی محترم هبتہ النور صاحب امیر ہالینڈ کی بیگم ہیں اور ان کی بیٹی پھر آگے ہمارے نوید مارٹی صاحب کی بیگم ہیں اور اللہ کے فضل سے یہ بھی بہت مخلص خاندان ہے۔مکرم بشارت الرحمن صاحب قمر مکرم بشارت الرحمن صاحب قمر۔تاریخ شہادت ۴ دسمبر ۱۹۸۲ء۔مکرم بشارت الرحمن صاحب قمر جھنگ میں پیدا ہوئے۔میٹرک پاس کرنے کے بعد جامعہ احمد یہ میں داخل ہوئے۔یکم جولائی ۱۹۸۲ء کو میدان عمل میں مدرسہ چٹھہ ضلع گوجرانوالہ میں تقرر ہوا۔وہیں فرائض منصبیہ ادا کرتے ہوئے ایک خادم دوست طاہر احمد کے ہمراہ اپنے علاقہ کی جماعتوں کے دورہ کے لئے موٹر سائیکل پر جارہے تھے کہ ۴ / دسمبر ۱۹۸۲ء کی شام کوعلی پور چٹھہ جاتے ہوئے علی پور شہر کے قریب پیچھے سے ایک تیز رفتار ٹرک آیا اور اس کی ٹکر کے نتیجہ میں دونوں ہی گرے اور دونوں کی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی جس وجہ سے موقع پر ہی وفات پاگئے۔انالله وانا اليه راجعون۔مکرم بشارت الرحمن صاحب نے جامعہ احمدیہ میں تعلیم کے دوران ہی وصیت کر لی تھی۔ان کا جنازه ۵/ دسمبر ۱۹۸۲ء کور بوہ لایا گیا۔خاکسار کونماز عصر کے بعد آپ کی نماز جنازہ پڑھانے کی توفیق ملی۔بعدہ بہشتی مقبرے میں تدفین عمل میں آئی۔بہت نیک فطرت ہمتین، کم گو اور وقت کے تقاضوں کو سمجھ کر ان پر پورا اترنے والے تھے۔مطالعہ کا بہت شوق تھا۔اپنے سنٹر میں ان کے غیر احمدی احباب سے بھی دوستانہ مراسم تھے اور وہ سب ان کی بڑی قدر کیا کرتے تھے۔مرحوم غیر شادی شدہ تھے۔محترم مولانا عبدالمالک خان صاحب اب میں مولانا عبدالمالک خان صاحب مرحوم شہید کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔یوم شہادت ۵/اگست ۱۹۸۳ء ہے۔اگر چہ یہ ذکر کچھ لمبا ہو گیا ہے لیکن ان کے مقام اور مرتبے کے لحاظ سے اگر کچھ لمبا ہو بھی گیا تو کوئی حرج نہیں۔لیکن ایک اور بات بھی ہے کہ نوٹس کی تیاری کے وقت جب میں ان شہداء کے نام اکٹھے کر رہا تھا اور ان کا ذکر خیر کر رہا تھا اس وقت تک مجھے علم نہیں تھا کہ اور کتنے شہداء کا ذکر ابھی باقی ہے۔