شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 106 of 297

شہدائے احمدیت — Page 106

خطبات طاہر بابت شہداء 97 خطبہ جمعہ ۲۸ رمئی ۱۹۹۹ء میں بطور مبلغ اسلام تعینات تھے۔حافظ صاحب بہت نیک ، تہجد گزار اور انتھک خادم دین تھے۔۱۹۷۴ء میں جب تخت ہزارہ میں متعین کیا گیا تو اس وقت وہاں کی جماعت بہت شدید مشکلات اور دباؤ کا شکار تھی۔آپ کی لگن، محنت اور کامیاب حکمت عملی سے اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل فرمایا اور یہ جماعت پھر سے اپنے قدموں پر کھڑی ہو گئی۔حافظ صاحب کو یہ سعادت بھی حاصل رہی کہ آپ نے جلسہ سالانہ پر مسجد مبارک میں نماز تہجد بھی پڑھائی۔نہایت خوبصورت قراءت کرتے تھے اور رمضان مبارک میں تراویح پڑھایا کرتے تھے۔واقعہ شہادت: حافظ صاحب ۵/اگست ۱۹۸۱ء کو ایک دورہ پر لمباسہ جارہے تھے۔ہائی وے پر ایک ٹرک سے ان کی ٹکر ہوگئی جس کے نتیجہ میں آپ شدید زخمی ہو گئے۔ان کو ہسپتال پہنچایا گیا جہاں پر ۶ ارا گست ۱۹۸۱ء بروز اتوار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنی جان حقیقی مولا کے سپر د کر دی۔انالله وانا اليه راجعون ۲۲ اگست ۱۹۸۱ء کو شہید مرحوم کی نماز جنازہ ربوہ میں ادا کی گئی اس کے بعد بہشتی مقبرہ میں تدفین عمل میں آئی۔شہادت کے وقت آپ کی عمر ۳۴ سال تھی۔شہید مرحوم نے اپنے پیچھے ایک بیوہ کے علاوہ تین لڑکیاں اور ایک لڑکا چھوڑے جن میں سے دو بیٹیوں کی شادیاں ہو چکی ہیں۔ایک بیٹی عطية المحجیب مکرم محمد احمد صاحب نعیم مربی سیر یا ( حال لندن) کی بیگم ہیں۔دوسری قرۃ العین ہیں جو ملک نجیب احمد صاحب کی اہلیہ ہیں جو اسسٹنٹ انجینئر شاہ تاج شوگر ملز ہیں۔بیٹا ( حافظ عبدالوہاب مربی سلسلہ ) حافظ قرآن ہے اور جامعہ احمدیہ میں زیر تعلیم ہے۔تیسری بیٹی صائمہ بی اے کر چکی ہیں اور ابھی تک غیر شادی شدہ ہیں۔اللہ ان کو بہترین رشتہ عطا فرمائے۔مکرم عبدالرحمن صاحب بنگالی۔امریکہ اب مکرم عبد الرحمن صاحب بنگالی مرحوم کا ذکر کرتا ہوں۔ضمناً یہ عرض کر دیتا ہوں کہ بہت آغاز میں میں اکثر ان سے ہومیو پیتھک دوا لیا کرتا تھا۔بہت بار یک بار یک گولیوں میں بہت پتلی شیشیوں میں رکھا کرتے تھے اور بہت ہی مہربان اور پیار کرنے والے تھے اور کبھی کبھی تھوڑا تھوڑا ہو میو پیتھی کا سبق بھی دے دیا کرتے تھے۔۱۹۶۳ء میں امریکہ تشریف لے گئے اور پٹس برگ میں قیام فرمایا۔نو سال تک تبلیغ اسلام کا فریضہ خوش اسلوبی سے سرانجام دیتے رہے۔۱۹۷۲ء میں ڈیٹن