شہدآء الحق — Page 91
۹۱ سنے۔اور برادر حضرت نعمت اللہ خان کو وہ کتاب دی گئی کہ اپنے ساتھ لے جا کر امیر افغانستان اور اس کے اراکین کے حضور پیش کرے۔تا کہ ان کو احمدیت کے حالات کا صحیح اندازہ ہو سکے۔قیام پشاور : برادر موصوف جب پشاور پہنچا۔تو ہمارے پاس مکان انجمن احمد یہ پشاور واقعہ بازار جہانگیر پورہ میں ٹھہرا۔اور عرصہ دراز تک قیام کیا۔یہ واقع ۱۹۲۲ء مطابق ۱۳۴۰ھ کا تھا۔برادر موصوف ایک نہایت پاکیزہ ، کم گو، پر جوش ، متدین نوجوان تھا۔گفتگو میں شیرینی تھی۔خدا تعالیٰ شاہد ہے کہ اس کے ایام قیام میں ہم پر یہ اثر ہوتا رہا۔کہ اس اخلاق حسنہ اور صلاحیت کا مجسمہ انسان بشر نہیں۔بلکہ فرشتہ مجسم ہے گویا ما هذا بشرا ان هذا الاملك كريم اسی کے حق میں آیا ہے۔وہ شیر میں کلام موثر لہجہ میں کلام کرنے والا۔سرخ و سفید خوبصورت چہرہ والا، سیاہ چشم ، سڈول وجود، کشادہ پیشانی ، سیاہ بالوں والا ، سیاہ بادام نما آنکھوں والا تھا۔باریک لب اور چہرہ پر سیاہ ابریشم کی طرح بالوں کی ریش تھی۔زبان فارسی تھی اور پشتو بھی بول لیتا تھا۔اردو زبان بھی قدرے سیکھ لی تھی۔برادر موصوف کے ملائم طبع اور نرم مزاج کو دیکھ کر ایک دن ہم نے دریافت کیا کہ اگر خدانخواستہ افغان اپنے معاہدہ پر قائم نہ رہے۔اور آپ کو کوئی ابتلاء یا امتحان پیش آئے۔تو کیا آپ مصائب اور شدائد، باز پرس و دار و گیر برداشت کر سکیں گے؟ برادر موصوف پر ہمارے اس سوال کا ایک خاص اثر ہوا اور آبدیدہ ہو کر کہا۔کہ انشاء اللہ آپ دیکھ لیں گے۔میں اس