شہدآء الحق

by Other Authors

Page 90 of 173

شہدآء الحق — Page 90

اس وقت وزیر خارجہ کے عہدے پر ممتاز تھے۔اس واسطے ان کی اس تحریر کے ذریعہ جماعت احمدیہ کو یقین دلایا گیا کہ کابل اور افغانستان میں جماعت احمد یہ آزادی سے رہ سکتی ہے اور ان پر ملاؤں کا کوئی دست تطاول دراز نہ ہو سکے گا۔اس اعتبار کی بنا پر حضرت خلیفۃ المسیح سید نا محمود احمد صاحب کی اجازت سے حضرت نعمت اللہ خان پنج شیری قادیان سے بغرض قیام کا بل روانہ ہوا۔اور پشاور میں ہمارے پاس آ کر رہا۔حضرت نعمت اللہ : یہ نوجوان کے علاقہ پنج شیر ملک افغانستان کا باشندہ تھا۔ایک میانہ قد کا خوبصورت نو عمر جوان تھا اور تازہ خط ریش چہرہ پر آیا ہوا تھا۔اندازاً بیس (۲۰) اور پچیس (۲۵) سالہ عمر کا ہو گا۔قادیان دارالامان میں علوم قرآن کریم اور معارف احادیث سے بہرہ اندوز ہو چکا تھا۔بطور معلم و مبلغ احمدیت و تربیت جماعت کا بل جانے کو تھا۔- دعوۃ الا میر : حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے ان دنوں ایک کتاب دعوۃ الا میر نامی اردو میں تحریر کی۔اور اس کا فارسی میں ترجمہ کیا گیا اور خوبصورت شکل اور عمدہ کاغذ پر لکھوا اور چھپوا کر امیر امان اللہ خان کے نام سے معنون کر دیا تھا۔اس کتاب میں سلسلہ احمدیہ کے تاریخی حالات اور حضرت احمد علیہ السلام کے دعوے اور دلائل کا ذکر تھا۔اور صحیح شکل میں احمدیت پیش کی گئی تھی۔تا کہ امیر مذکور بجائے ہمارے مخالفوں کے غلط خیالات سنے۔ہماری باتیں ہماری زبانی لے آپ حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید مرحوم کے شاگرد تھے۔اور عالم پارسا متقی اور صوفی آدمی تھے۔