شہدآء الحق — Page 7
جب کبھی کوئی نبی اور رسول آیا اور اس نے قوم کو دعوت دی تو بعض افراد نے قبول کر لیا اور اکثر نے اس کا انکار کر دیا۔جیسا کہ ”منهم من امن و مـنهـم مـن كـفـر “ سے ثابت ہے ملک کے لوگ دو اقسام میں تقسیم ہوتے ہیں۔مومنین ماننے والوں میں اور منکرین نہ ماننے والوں میں پھر مومنوں میں دو گروہ ہو جاتے ہیں۔ایک گروہ نہایت مخلص مستعد اور سرگرم مومنان باعمل کا ہوتا ہے۔جو دنیا اور آخرت میں مور د انعامات کثیرہ ہوتا ہے۔دوسرا گروہ زبان سے ایمان کا مقر ہوتا ہے۔مگر بجا آوری اعمال صالح میں ویسا مخلص اور مستعد نہیں ہوتا۔جیسا کہ گروہ اول کے لوگ ہوتے ہیں۔پس یہ لوگ حصول انعامات میں بھی ان سے کم درجہ پر ہوتے ہیں۔اسی طرح پر منکروں میں بھی دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ایک گروہ وہ ہوتا ہے۔جو کسی وجہ سے منکر رہ جاتا ہے۔مگر مکفر مکذب اور شریر اور دلآزار اور بد تہذیب نہیں ہوتا۔صرف اس نبی کا دعوی یا اس کی کوئی بات سمجھ میں نہ آئی تو نہ مانا۔یا کوئی اور امر مانع ایمان ہوا اور دعوت حقہ کی قبولیت سے محروم رہ گئے۔پس ایسے لوگوں سے دنیا میں کوئی گرفت نہیں ہوتی اور قیامت میں باز پرس اور مواخذہ ضرور ہو گا۔رہا دوسرا گروہ منکرین پس وہ نہ صرف اس نبی کی دعوت کو رڈ کرتا ہے۔بلکہ تکفیر اور تکذیب پر کمر بستہ ہوتا ہے اور دوسروں کے لئے بھی حق کے قبول کرنے میں مانع ہوتا ہے اور اس نبی اور اس کی جماعت پر گونا گوں