شہدآء الحق

by Other Authors

Page 8 of 173

شہدآء الحق — Page 8

بہتانات اور مفتریات باندھتا ہے اور اس کے کلام میں تحریف و تصریف کرتا ہے۔تا کہ عامۃ الناس بدظن ہو کر کنارہ کش ہوں اور بد زبانی دروغ گوئی اور تمسخر اور استہزاء اور اذیت اور نقصان جان و مال دے رہا ہوتا ہے۔لوگوں کو ان کے قتل وغارت پر آمادہ کرتا ہے اور جہاں جیسا بس چلا کر گذرے۔انہی کے حق میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یا حسرة على العباد ما ياتيهم من رسول الا كـانـوا به يستهزؤن یعنی اے افسوس ان بندوں پر کہ جب کبھی ان کے پاس کوئی نبی یا رسول آیا تو انہوں نے اس پر ٹھٹھا اڑایا۔قرآن کریم میں اسی وجہ سے حضرت آدم ، حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت عیسی ، حضرت موسی اور دوسرے رسل کا ذکر آیا ہے۔کہ لوگ ان کے حالات سے عبرت حاصل کریں۔کہ دیکھو جن مکذبین رسل نے ان نبیوں اور ان کی جماعتوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا۔آخر کا ر ان کا کیا حشر ہوا۔وہی حشر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اصحاب کو دکھ دینے والوں کا ہوگا۔خدا تعالیٰ نے ان کو بارہا کہا۔کہ سیروا فی الارض فانظر واكيف كان عاقبة المكذبين يعنى جاؤ اور ذرا اطراف عالم میں پھر کر دیکھ لو اور چاروں طرف نظر دوڑاؤ کہ انبیاء سابقین کے خلاف شریر بن کر جو لوگ مکذب بنے۔ان کا کیسا عبرت ناک اور دردناک پھل ان کو ملا۔اگر تم اس مذموم فعل سے باز نہ آئے تو وہی حشر تمہارا ہونے والا۔لا ہے۔ہمارے مخالف علماء حضرت آدم علیہ السلام کے مخالف جس عزازیل کو اپنی عصر کا علا مہ اور بڑا زاہد اور عابد یقین کرتے ہیں۔بلکہ اس کو تمام فرشتوں کا استاد یا معلم الکل کہتے ہیں۔آخر حضرت آدم علیہ السلام کے انکار سے ابلیس