شہدآء الحق — Page 54
۵۴ پڑھی یعنی اے پروردگار تو ہی دنیا و آخرت میں میرا ولی ہے اور تو مجھے مسلمانوں والی موت دے۔اور اپنے نیک بندوں میں شامل کر دے۔چند منٹوں میں ہی آپ پر تو وہ سنگ کھڑا ہو گیا۔اور آپ کا جسد اطہر نظروں سے پوشیدہ ہو گیا۔اور روح مبارک جسد عنصری کی قید سے آزاد ہو کر مرفوع الى الله ہوئی انا للہ وانا اليه راجعون- یہ یومِ شہادت سه شنبه ۱۷ ماہ ربیع الثانی ۱۳۲۱ھ مطابق ۱۴ جولائی ۱۹۰۳ء اور عصر کا وقت تھا چونکہ آپ پر پتھروں سے بارش کی گئی۔جس طرح حضرت امام حسین پر تیروں سے اس واسطے آپ کا سن شہادت بھی حسین افغانیاں ۱۳۲۱ھ اور فخر امت ۱۳۲۱ھ سے نکلتی ہے۔فخر امت شد خطابش ز آنکے با صدق وصفا سر فدائے حق نمود و شد بجنت جا گزیں خدا تعالیٰ نے جن دو بکروں کی شہادت کی خبر وحی شاتان تذبحان میں دی تھی۔وہ دوسرا شات بھی مظلوم مارا گیا۔اور خدا تعالیٰ کی بات پوری ہوئی۔جس طرح شات ایک بے آزار جانور ہے۔اسی طرح یہ دونوں شہداء داعی امن و صلح اور بے آزار انسان تھے۔اور محض بجرم احمدیت معصوم اور مظلوم مارے گئے ان کی خبر وفات خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ان الفاظ میں دی - قتل خيبة وزيلاهيبة (البشرى جلد دوم صفحه (۷۸) یعنی وہ مظلوم ایسے حالات میں مارا گیا۔کہ لوگوں نے اس کی باتوں پر کان نہ دھرا۔پس اس کی وفات کے سبب سے کابل پر ہیبت طاری ہوئی یعنی سخت