شہدآء الحق

by Other Authors

Page 53 of 173

شہدآء الحق — Page 53

۵۳ اس مجمع یا جلوس میں بمقام مقتل سردار نصر اللہ خان نائب السلطنت اور سردار عبدالاحمد خان اے تو ماندان پولیس اور قاضی عبدالرازق ملائے حضور امیر اور قاضی عبدالروف قندہاری اور دوسرے ہزار ہا لوگ جمع تھے۔کہتے ہیں سب سے پہلے پتھر حضرت شہید مرحوم پر سردار نصر اللہ خان نے پھینکا۔مگر میرزا شیر احمد مولف نجم السعادت لکھتا ہے۔کسے کہ سنگ نخستین بزد برآں چین شدست معتین که عبدالرازق بود بمردمان دگر گفت از رو غیرت کہ ہر کہ سنگ زند جائے اوست در جنت زہر طرف به نمودند سنگ بارانش بدان عذاب برآمد ز کالبد جانش ہلاک گشت باغوائے بدگمانی خویش نیافت جاں زمسیحائے قادیانی خویش یعنی جس نے پہلا پتھر چلایا۔وہ شخص قاضی عبدالرازق تھا۔اور اس نے جوش میں آ کر کہا۔کہ جو اس پر پتھر پھینکے گا وہ جنت میں مقام پاوے گا۔ہر طرف سے اس پر پتھروں کی بارش برسائی گئی۔اور اس تکلیف سے اس نے جان دے دی۔اپنے بُرے خیالات نے اس کو ہلاک کر دیا اور اس کو اس کا مسیح قادیانی زندہ نہ کر سکا۔الغرض گاڑے جانے کے بعد جب لوگوں نے حضرت شہید کے گرد حلقہ بنایا۔تو آپ نے بلند آواز سے کلمہ شہادت اس طرح ادا کیا - اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمد ارسول الله جب پہلا پتھر پیشانی پر لگا۔تو آپ نے سرمبارک کو قبلہ رُخ جھکا دیا۔اور آیت انست ولي في الدنيا والاخرة توفنى مسلماً والحقني بالصالحين