شہدآء الحق — Page 21
۲۱ براہین قرآنیہ سے ہوتی رہی۔اور یہ مقدس کام بھی بادشاہوں نے نہیں بلکہ اولیاء اللہ روحانی لوگوں نے کیا ہے۔اگر مسلمان بادشاہ جبر و واکراہ سے کام لیتے تو کیا ہندوستان اور مصر و شام میں دوسرے مذاہب کا وجود باقی رہتا ؟ ہرگز نہیں۔تبلیغ اسلام : قرآن کریم نے تبلیغ مذہب کے بارے میں صاف کہا ہے کہ ادع الى سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة يعنى دعوت الى الاسلام صرف دلائل حکمت اور مواعظہ حسنہ کے ذریعہ ہوا کرے۔اور تلوار یا جبر کے بارہ میں فرمایا کہ لا اکراہ فی الدین کہ دین کے بارہ میں کسی شخص کو جبر اور اکراہ سے مجبور نہ کیا جائے۔بلکہ لکم دینکم ولی دین پر عامل ہوں۔یعنی مومن اپنے مذہب پر عمل کریں۔اور کا فراپنے مذہب پر۔کوئی کسی کو جبر سے مجبور نہ کرے۔- رہا سیاسی مخالف اور حملہ آور اعداء سے معاملہ۔سو اس کے بارہ میں بھی صاف فرمایا کہ قاتلوا الذين يقاتلونکم یعنی تلوار کا جنگ ان سے کرو جو تمہارے خلاف تلوار سے حملہ آور ہوتے ہیں۔ولا تعتدوا اور تم کسی پر جبر اور زیادتی مت کرو جزاء سيئة سيئة مثلها برائی کی سزا اسی قدر ہے جس قدر کہ برائی ہے اس سے زیادہ نہیں کیونکہ مذہب شمشیر کا محتاج نہیں۔البتہ جان و مال کی حفاظت یا ملکی حفاظت کے واسطے بطور دفاع تلوار سے کام لینا لابدی اور ضروری ہے۔اختلاف مذہب کی بنا پر کسی کو قتل کرنے کی ہرگز اجات نہیں۔بلکہ بے