شہدآء الحق — Page 167
خاندان امیر کے علاوہ ڈاکٹر عبدالغنی کا جوان بیٹا ہلاک کر دیا۔قاضی عبدالسمیع مارا گیا۔قاضی عبد الرحمن کو ہ دامنی کا بند بند جدا کر کے ہلاک کر دیا گیا۔خدا کے کام : ذرا غور اور تدبر سے کام لو۔اورسوچو۔ایک ایک دو دو ہو کر تنہائی میں ٹھنڈے دل سے تعصب کو دور کر کے غور کرو۔کہ جماعت احمد یہ ایک کمزور اور غریب جماعت ہے۔اگر کوئی طاقت اور قوت بھی رکھتی ہے۔تو اس طرح اپنے مخالف گروہ شاہان کا بل سے اپنے مظلوم اور معصوم شہدا کے خون کا بدلہ اور انتقام نہ لے سکتی اور پھر شان و شوکت کے ساتھ جس طرح لیا گیا۔یہ صرف خدا تعالیٰ کا کام تھا۔اور اہل حق کی تائید میں تھا۔ہزار ہا کتب اور نقلی اور عقلی دلائل سے بڑھ کر یہ خدا تعالیٰ کی عملی اور فعلی تائید صداقت حضرت مسیح موعود پر ہے جو ہمارے قومی اور قادر خدا نے دکھائی۔جس نے خود بخو دایسے اسباب پیدا کر دیئے کہ امیر عبدالرحمن خان کو اپنے رنگ میں اور امیر حبیب اللہ خان کو اور اس کے اراکین سلطنت کو اپنے رنگ میں اور امیر امان اللہ خان کو اپنے رنگ میں اور اس کے معتمدین کو اپنے رنگ میں مواخذہ کیا۔اور چوروں اور رہزنوں کو اپنے رنگ میں سزا دی۔درس عبرت : اگر ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ کو شکست دے دے۔تو کوئی نئی بات نہیں۔البتہ ایک بے سروسامان چوروں کا گر وہ اٹھ کر ایک قوی بادشاہ اس کی افواج کو عین دارالسلطنت میں کروڑوں روپے کے خزانہ اور اسلحہ و بارود کے ہوتے ہوئے نہ صرف بے دست و پا کر دے۔بلکہ اوسان باختہ کر کے تخت و تاج سے بیزار کر کے ملک کی حدود سے ہی باہر نکال دے۔یہ کیسی