شہدآء الحق — Page 166
۱۶۶ حضرت احمد کی نصرت : خدا تعالیٰ نے اپنی سنت کے بموجب اپنے فرستادہ حضرت احمد علیہ السلام کو اپنا موعود نبی اور رسول بنا کر اصلاح خلق اللہ کے واسطے مبعوث کیا۔ہندوستان اور دوسرے ممالک نے تکذیب سے کام لیا۔فتویٰ کفر دیا۔اور جی کھول کر تکذیب کی افغانستان میں پہلے امیر عبدالرحمن خان نے پھر امیر حبیب اللہ خان نے اور پھر امیر امان اللہ خان نے بار بار تکذیب رسول کا تجربہ کیا۔اور اپنے ملک سے استیصال احمدیت میں انتہا کر دی۔خدا تعالیٰ نے بھی اپنی گرفت کا حکم صادر کیا۔اور امیر عبدالرحمن خان کو فالج سے ہلاک کر دیا۔امیر حبیب اللہ خان اور اس کے بھائی سردار نصر اللہ خان اور فرزند حیات اللہ خان کو قتل کرا دیا۔سردار نصر اللہ خان کا نو جوان بیٹا امیر امان اللہ خان سے مروا دیا۔اور سردار علی احمد جان کو توپ سے اڑا دیا۔اور امیر امان اللہ خان کو تاج و تخت سے محروم کر کے ہمیشہ کے لئے افغانستان کے ملک سے خارج کر دیا۔اور ان زور آور حملوں سے ثابت کیا۔کہ کون حق پر تھا۔اور کون خدا کے نزدیک ناحق پر تھا۔- شہداء احمدیہ: جس وقت حضرت ملا عبدالرحمن (۱) مارا گیا۔حضرت سید عبد اللطیف (۲) کو شہید کیا گیا۔حضرت نعمت اللہ خان (۳) اور حضرت عبد الحليم (۴) حضرت قاری نور علی(۵) حضرت محمد سعید جان ( ۶ ) - حضرت محمد عمر جان ( ۷ ) - حضرت سید سلطان (۸) - حضرت سید حکیم (۹) مظلوم مارے گئے۔اور قاتلوں نے خیال کیا کہ بس وہ غالب ہو گئے۔اور احمدیت مٹ گئی۔خدا تعالیٰ نے آخر کار ان کو وہ ہاتھ دکھائے۔کہ