شہدآء الحق

by Other Authors

Page 159 of 173

شہدآء الحق — Page 159

۱۵۹ ہوئیں۔اور بقول عزیز ہندی پندرہ بیس ہزار نفوس قتل ہوئے۔( زوال غازی صفحه ۴۰۲) پانچواں وقوعہ حکومت بچہ سقہ : حبیب اللہ خاں عرف بچہ سقہ نے تخت نشین ہو کر شہر کا بل اور اطراف افغانستان میں جنگ و جدل اور قتل و مقاتلے شروع کر دیئے۔اور ہزار ہا نفوس کو اس دار فانی سے رخصت کر دیا۔یہ سلسلہ اکتوبر ۱۹۲۸ء لغایت جنوری ۱۹۲۹ء جاری رہا۔بڑے بڑے اراکین سلطنت اور امراء اور سردار قتل ہوئے۔سمت شمالی و مشرقی ہزارہ جات اور قندھار اور مستقر پر کثرت سے لوگ مرے۔چھٹا وقوعہ حکومت نادرہ: جس وقت اعلیحضرت محمد نادرشاہ حدود افغانستان میں داخل ہوئے۔تا فتح کابل و جنگ کوہ دامن وقتل بچہ سقہ ہزار ہا نفوس ہلاک ہوئے۔بعض سرکار کی طرف سے اور بعض رعیت کی طرف سے اور کو ہ دامنیوں کو خوب سزا دی گئی۔ساتواں وقوعہ شہادت محمد نادرشاہ : جرنیل غلام نبی خان اور اس کے بعد اعلیٰ حضرت محمد نادر شاہ شہید کے واقعہ قتل کے سلسلہ میں کثرت سے لوگ مارے گئے۔عزیز ہندی لکھتا ہے۔کہ بچہ سقہ نے اسی نوے ہزار افواج بھرتی کی تھی۔جنہوں نے جنگوں میں حصہ لیا۔اور نصف سے زیادہ مقتول و مجروح ہو گئی۔اس میں قبائل کی تعداد شامل نہیں۔جو بچہ سقہ کی طرفداری میں جنگ کر رہے تھے۔اس سے قارئین معمولی سا اندازہ کر سکتے ہیں۔کہ بغاوت شنواری