شہدآء الحق — Page 158
۱۵۸ کثرت سے ہلاک ہوئے۔تب جا کر بغاوت دب گئی۔دوسرا وقوعه قتل امیر : امیر حبیب اللہ خان بمقام گله گوش پغمان قتل ہوا۔اور سردار نصر اللہ خاں نے سردار عنایت اللہ خان کا حق تخت و تاج غصب کر لیا۔امیر امان اللہ خان کا بل میں بادشاہ ہو گیا۔اور امیر مقتول کے قتل کے سلسلہ میں کئی لوگوں کو قتل کیا اور اسی سلسلہ میں برطانیہ اور افغانوں کی جنگ چھڑ گئی۔جس کو افغانستان کی تیسری جنگ کہتے ہیں۔اور یہ جنگ سرحدات سمت مشرقی - سمت جنوبی اور صوبہ قندھار کی سرحدات تک پھیل گئی اور ہزار ہا نفوس فوج اور رعیت کے مارے گئے۔یقیل مقاتلہ فروری ۱۹۱۹ ء لغایت اکتوبر ۱۹۱۹ء جاری رہا۔تیسرا وقوعہ بغاوت منگل وجدران : یه بغاوت بار دیگر بزمانه حکومت امیر امان اللہ خان ۱۹۲۴ء میں اقوام منگل وجدران میں شروع ہوئی اور ملائے لنگ عبداللہ کے قتل ہونے تک اس کے ذریعہ سلسلہ ہلاکت جاری رہا۔اور ہزار ہا نفوس رعیت اور بادشاہ کی طرف سے مارے گئے۔تب جا کر یہ بغاوت فرو ہوئی۔چوتھا وقوقعہ بغاوت شنواری و مہمند : یہ بغاوت ۱۹۲۸ء میں امیر امان اللہ خاں کے خلاف علاقہ جلال آباد میں شروع ہوئی۔جس کا مدعا افغان لڑکیوں کو یورپ میں تعلیم کے واسطے جانے سے روکنا تھا۔اور یہی بغاوت سمت مشرقی سے سمت شمالی اور سمت جنوبی کی سرحدات تک پھیل گئی۔جس کا نتیجہ امیر امان اللہ خان کا عزل از تاج و تخت ہوا۔کثرت سے باغی اور افواج قتل