شہدآء الحق — Page 140
۱۴۰ ہوئے۔اور سخت بغاوت پھیلی۔یہ گورنر معزول کر کے کا بل بلا یا گیا ) بزمانہ امیر حبیب اللہ خان اس کو اس عہدہ جلیلہ سے معزول کیا گیا۔اور دعویٰ کنندگان کے سامنے اپنی بریت حلف کی۔اور حلف دروغ کی سزا میں مہلک بیماری لاحق ہوئی۔جس سے جان بحق ہوا نہ وہ عزت رہی اور نہ وہ زندگی جس کے نشے میں وہ چور تھا۔دوسرا پاداش ظلم : سردار محمدعمر خان معروف بہ سور جرنیل جو ۱۹۱۸ء میں علاقہ جاجی کا حاکم تھا۔اور اس کے حکم سے سید سلطان صاحب احمدی گرفتار کیا گیا تھا۔جو ایک عالم اور سید تھا۔اور اس کو کابل کے جیل خانہ میں ڈلوایا۔جہاں ان کو نانِ نمک کھلا کھلا کر شہید کر دیا گیا اور ان کا بھائی سید حکیم صاحب احمدی بھی زنداں میں ڈالا گیا۔جس کے اثر سے وہ فوت ہو گیا۔عزیز ہندی لکھتا ہے۔کہ یہ حاکم بھی سخت ظالم اور مرتشی تھا۔اور عادی مجرم بھی۔اکثر دفعہ سخت اور لمبی سزاؤں سے بچ جاتا تھا۔آخر امان اللہ خان نے اس کو سزا دی۔اور زنداں میں قید کر دیا۔بچہ سقہ کے حملہ کابل کے وقت اس کو قید خانہ سے نکال کر باغ بالا کے پاس مقابلہ کے لئے بھیج دیا گیا اگر چہ قابل اور بہادر جرنیل تھا۔تاہم منگل سرداروں سے اختلاف ہونے کے سبب اس کے پاؤں پر جنگ میں گولی لگی۔اور زخمی ہوا حمید اللہ خان برادر بچہ سقہ کے پچاس ساتھیوں کے شب خون کی تاب نہ لا سکا۔اور اس کے ساتھی گھبرا گئے اور بھاگ نکلے۔شکست کھا کر اپنی جبیں پر داغ ذلت و ندامت لیا۔اور پھر کوئی عہدہ نصیب نہ ہوا۔( زوال غازی صفحه ۲۹-۳۳۶)