شہدآء الحق

by Other Authors

Page 108 of 173

شہدآء الحق — Page 108

سنگ کیا جاوے اور ہر دو مظلوموں نے اپنے قاتلوں سے درخواست کی۔کہ عصر کی نماز باجماعت ادا کرنے کا موقعہ دیا جائے۔چنانچہ موقع دیا گیا اور ہر دو مظلوموں نے نماز عصر با جماعت نہایت خشوع اور خضوع سے ادا کی۔اور اپنے قاتلوں پر خاموشی سے اتمام حجت کر دی۔کہ وہ کن کو قتل کر رہے ہیں۔ان کو جو (۱) ایمان باللہ رکھتے ہیں۔(۲) ایمان بالقرآن رکھتے ہیں۔(۳) ایمان محمد رکھتے ہیں۔(۴) ایمان بالصلوۃ رکھتے ہیں۔(۵) ایمان بالکعبہ رکھتے ہیں۔(۶) ایمان بالآ خرت رکھتے ہیں ! پس مومنوں کے قاتل من قتل مومناً متعمداً کے فرمان خداوندی کے تحت میں آچکے۔اور خدا تعالیٰ کے حضور مجرم بن چکے۔حضرت مولانا عبد الحلیم اور حضرت قاری نور علی نے بعد از فراغت نماز اپنے قاتلوں کے سر کردہ سے کہا۔کہ ہم کو گاڑنے کی ضرورت نہیں۔ہم قبلہ رخ بیٹھے رہتے ہیں۔اور آپ اپنا کام کریں- فاقض ما انت قاض یعنی کرو۔جو تمہاری مرضی ہو۔اور ہر دو نے بلند آواز سے کلمہ شہادت ادا کرنا شروع کیا۔نشهد ان لا اله الا الله ونشهد ان محمداً رسول الله قاتلوں نے چاروں اطراف سے پتھروں کی بارش شروع کر دی۔اور چند منٹوں میں ہر دو شہید تو وہ سنگ کے نیچے نظروں سے پوشیدہ ہو گئے۔ان کی مبارک روحیں ان کے پاک اجسام سے جدا ہو گئیں۔اور اپنے معبود حقیقی کی طرف سرخرو ہو کر پرواز کر گئیں۔ان کے اجسام مظہر ہ پتھروں کے نیچے مدفون