شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 49 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 49

بعض دفعہ بیویوں کو کوستے ہیں اور یہ شکایات مجھے اکثر آتی رہتی ہیں۔سپاہی سے یہ کیپٹن تک پہنچے اور دیانتداری کی وجہ سے لوگ ان کا بڑا احترام کرتے تھے۔بڑے بہادر انسان تھے۔1971ء کی جنگ اور کارگل کی لڑائی میں حصہ لیا۔شہادت کی بڑی تمنا تھی۔اللہ تعالیٰ نے یہ تمنا بھی ان کی اس رنگ میں پوری فرمائی۔عبادت کرتے ہوئے ان کو شہادت کا رتبہ دیا۔مکرم کامران ارشد صاحب شہید مکرم کا مران ارشد صاحب شہید ابن مکرم محمد ارشد قمر صاحب۔ان کے دادا مکرم حافظ محمد عبداللہ صاحب اپنے خاندان میں سب سے پہلے احمدی تھے۔انہوں نے 1918 ء میں بیعت کی۔پارٹیشن کے وقت ضلع جالندھر سے ہجرت کر کے آئے تھے۔بوقت شہادت شہید کی عمر 38 سال تھی اور دارالذکر میں انہوں نے شہادت پائی۔شہید مرحوم کی تعلیم بی اے تھی۔کمپوزنگ کا کام کرتے تھے اور خدام الاحمدیہ کے بڑے فعال رکن تھے۔بطور سیکرٹری تعلیم جماعت کی خدمات سرانجام دے رہے تھے۔اس کے علاوہ mtaلا ہور میں 1994ء سے رضا کارانہ خدمت سر انجام دے رہے تھے۔اس سے پہلے دارالذکر میں شعبہ کتب میں بھی خدمت سرانجام دیتے رہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔ان کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ فائرنگ شروع ہونے کے وقت بہادری کے ساتھ جان کی پرواہ کئے بغیر mta کے لئے ریکارڈنگ کرنے کے لئے نکلے مگر اس دوران دہشتگردوں کی فائرنگ کی زد میں آکر شہید ہو گئے۔اہلِ خانہ نے بتایا کہ بہت حلیم طبع انسان تھے۔بچوں کی نماز کی خصوصی نگرانی کرتے اور پچھلے ایک ماہ سے دارالذکر کے کام میں مصروف تھے۔شہادت سے تین چار روز قبل خلاف معمول نہایت سنجیدہ اور خاموش رہے۔قرآن شریف کی تلاوت کے بغیر گھر سے نہیں نکلتے تھے۔ان کے بارے میں جب ان کی والدہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ جمعہ کے روز فجر کے بعد خواب میں دیکھا کہ گھر میں شادی کا ماحول ہے۔باہر گلی میں احمدی عورتیں بیٹھی ہیں وہ مجھے دیکھ کر خوش ہوتی ہیں اور 49