شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 158 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 158

بوقتِ شہادت ان کی عمر 53 سال تھی۔عرصہ 15 سال سے دارالذکر کے سیکورٹی گارڈ کی حیثیت سے خدمت کر رہے تھے۔مسجد دارالذکر میں جام شہادت نوش فرمایا۔مسجد کے مین گیٹ پر ڈیوٹی پر تھے۔سانحہ کے دوران انہوں نے ایک دہشتگر دکو پکڑنے کی کوشش کی۔اس کوشش میں ان پر فائرنگ ہوئی۔دو گولیاں سینے میں لگیں جبکہ ایک برسٹ ان کے پیٹ کے نچلے حصہ اور ٹانگ پر لگا جس سے موقع پر ہی ان کی شہادت ہوگئی۔اہلِ خانہ نے بتایا کہ بہت ہی عمدہ شخصیت کے مالک تھے۔کبھی کسی سے جھگڑا نہیں کیا۔سادہ اور صلح پسند انسان تھے۔ایک دوست نے بتایا کہ شہید مرحوم ایک روز وردی پہن کر خوب ناز سے چل رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کیوں چل رہے ہیں؟ تو جواباً کہا کہ جو بھی غلط ارادے سے آئے گا وہ میری لاش پر ہی سے گزر کر جائے گا۔شہید مرحوم کی خواہش تھی کہ اگر اب میری کوئی اولا د ہو تو میں اسے وقف نو میں پیش کروں گا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا سنتے ہوئے بڑے بیٹے کی پیدائش کے گیارہ سال بعد بیٹا عطا کیا جو وقف نو میں ہے۔اہلِ خانہ بتاتے ہیں کہ جمعہ والے دن مصروفیت کی وجہ سے کبھی گھر فون نہیں کیا۔تا ہم شہادت سے ہیں منٹ پہلے فون کر کے بات کی۔جب انہوں نے پوچھا کہ آج آپ نے جمعہ والے دن کیسے فون کر لیا ہے؟ تو انہوں نے کہا بس میرا دل چاہ رہا تھا لہذا پاس ہی کھڑے خادم سے فون لے کر بات کر رہا ہوں۔باقی ذکر انشاء اللہ آئندہ۔158