شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 157
بھی ان کے ساتھ بد زبانی کرتے ، گالیاں دیتے ، پتھر مارتے۔بالآخر انہوں نے ایک احمدی گھرانے میں پناہ لی۔اللہ تعالیٰ خاندانوں کے لئے بھی تسلی کے سامان پیدا فرماتا ہے، خوابوں کے ذریعے تسلی دیتا ہے۔ان کی بیٹی کہتی ہیں کہ ایک روز قبل میں نے خواب دیکھا کہ گھر اور باہر ہر جگہ بہت زیادہ ہجوم ہے۔دوسری بیٹی مریم نے ایک روز خواب دیکھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث تشریف لائے ہیں اور ہمارے سر پر ہاتھ رکھ کر پیار دے رہے ہیں۔پھر تیسری بیٹی نے بھی اسی طرح کا خواب دیکھا کہ ایک جنگل ہے جہاں بہت خطر ناک بھینسیں اور جانور ہیں اور میں ڈر کر بھاگ رہی ہوں کہ اچانک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نظر آتے ہیں، میں بھاگ کر ان کے گلے لگ جاتی ہوں۔اہل خانہ نے بتایا کہ شہید مرحوم ہمیشہ باوضور ہتے تھے۔ہر وقت درود شریف پڑھتے رہتے تھے۔بہت محنتی تھے۔نماز تہجد پڑھنے کے بعد ڈیوٹی پر چلے جاتے اور پھر رات کو لیٹ واپس آتے۔جب پوچھا گیا کہ آپ تھکتے نہیں ، تو کہتے کہ میں ہر وقت درود شریف پڑھتارہتا ہوں جس سے تھکاوٹ نہیں ہوتی کبھی تبلیغ کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔رشتے داروں اور دوستوں میں بیٹھ کر باتوں کا رخ ہمیشہ تبلیغ کی طرف کر دیا کرتے تھے۔دبئی میں دو فیملیوں کو بیعت کروا کر جماعت احمدیہ میں شامل کرنے کی سعادت پائی۔مکرم محمود احمد صاحب شہید اگلا ذکر ہے مکرم محمود احمد صاحب شہید ابن مکرم مجید احمد صاحب کا۔شہید مرحوم کے دادا مکرم عمر دین صاحب و مفیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور پڑدادا حضرت کریم بخش صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تھے۔انہوں نے 1900 ء میں بیعت کی تھی۔قادیان کے قریب گاؤں بھینیاں کے رہنے والے تھے۔قیام پاکستان کے بعد ہجرت کر کے گجر ضلع شیخو پورہ میں شفٹ ہو گئے۔بعد میں چک متا بہ ضلع شیخو پورہ رہائش اختیار کر لی۔157