شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 154 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 154

کے بارے میں لکھا ہے کہ منصور احمد صاحب شہید سادہ مزاج، نہایت مخلص اور نظام خلافت سے محبت اور وفا کا تعلق رکھنے والے تھے۔موصوف اپنے وقت نو بچوں کو بڑی باقاعدگی کے ساتھ وقف نو کی کلاس میں شامل کرتے تھے۔ان کے بچوں کو خلافت کے ساتھ محبت و عقیدت پر مبنی بڑی لمبی لمبی نظمیں یاد ہیں۔بڑی بچی جس کی عمر پانچ سال ہے، بہت خوش الحانی اور سوز و گداز کے ساتھ نظم پڑھتی ہے۔خاکسار نے ایک دفعہ کلاس کے موقع پر مکرم منصور احمد صاحب شہید سے پوچھا کہ ان چھوٹے چھوٹے بچوں کو آپ نے اتنی لمبی لمبی نظمیں کیسے یاد کروا دیں؟ تو کہنے لگے کہ ینظمیں میں نے اپنے موبائل فون میں ریکارڈ کی ہوئی ہیں اور بچے ہر وقت سنتے رہتے ہیں۔ان کی خواہش تھی کہ ان کے بچے جلدی سیکھ جائیں اور جماعت میں نام پیدا کریں۔وہ لوگ جو اپنے موبائل میں میوزک اور مختلف چیزیں بھر لیتے ہیں ان کے لئے اس میں ایک سبق ہے۔۔مکرم مبارک علی اعوان صاحب شہید اگلا ذکر ہے مکرم مبارک علی اعوان صاحب شہید ابن مکرم عبد الرزاق صاحب کا۔شہید مرحوم قصور کے رہنے والے تھے۔آپ کے دادا مکرم میاں نظام دین صاحب اور پڑدادا نے خاندان میں سب سے پہلے شدید مخالفت کے باوجود بیعت کی تھی۔مرحوم کے نانا حضرت مولا نا محمد اسحاق صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تھے۔شہید مرحوم بی اے، بی ایڈ کے بعد محکمہ تعلیم سے وابستہ ہوئے اور لاہور میں تعینات تھے۔بوقتِ شہادت ان کی عمر 59 سال تھی۔مسجد دارالذکر میں جام شہادت نوش فرمایا۔روزانہ قصور سے بسلسلہ ملازمت لاہور آتے تھے۔نماز جمعہ مسجد دارالذکر میں ادا کرتے تھے۔سانحہ کے روز مین ہال میں بیٹھے ہوئے تھے کہ دہشتگردوں کے حملے کے دوران امیر صاحب ضلع قصور کو بذریعہ فون اطلاع دی کہ مسجد دارالذکر پر دہشتگردوں نے حملہ کر دیا ہے۔تھوڑی دیر بعد فون کیا کہ مجھے گولیاں لگ گئی ہیں اور میں شدید زخمی ہوں۔بعد میں بیٹے سے 154