شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 150
جانبر نہ ہو سکے اور جام شہادت نوش فرمایا۔شہید مرحوم کی اہلیہ بیان کرتی ہیں کہ میں اپنے تاثرات لفظوں میں بیان کرنے سے قاصر ہوں۔لیکن میرا ایمان اس قدر پختہ ہو گیا ہے کہ خدا تعالیٰ نیتوں کا حال جانتا ہے اور وہ جو بھی اپنے بندے کے لئے کرتا ہے وہ انسان کی سوچ سے بھی بہت بڑھ کر ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ نے میرے میاں کو شہید کا جو رتبہ دیا ہے وہ اصل میں اس کے حق دار تھے اور مجھے اس پر فخر ہے۔میری ساری اولاد بھی احمدیت کے لئے قربان ہو جائے تو مجھے رتی بھر بھی ملال نہیں ہو گا بلکہ میں خدا کی بے انتہا شکر گزار ہوں گی۔شہید مرحوم کے بیٹے نے بتایا کہ ابو کی شہادت سے چند روز قبل میرے ماموں طاہر محمود صاحب نے خواب دیکھا اور جب فجر کی نماز کے لئے بیدار ہوئے تو بتایا کہ مجھے خواب تو یاد نہیں، بس ایک جملہ یا درہا ہے ” پہاڑوں کے پیچھے چھوڑ آئے اور جب ہم ابو شہید کو ربوہ ہمیشہ کے لئے چھوڑنے جا رہے تھے تو پہاڑوں میں گھری اس وادی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا خواب بیان کیا۔پہلی دفعہ ربوہ گئے تھے اور پھر ہمیشہ کے لئے وہیں رہ گئے۔بیٹے نے مزید بتایا کہ ابو ابتدا میں تو جماعت کے شدید مخالف تھے لیکن پھر خدا تعالیٰ نے ایسا فضل فرمایا کہ بچے دل سے احمدیت قبول کی اور اخلاص، تقویٰ اور ایمانداری میں اس قدر بڑھ گئے کہ بیعت کے صرف ایک سال بعد ہی شہادت کا بلند مرتبہ پایا۔ایک سال میں ہی جماعت سے بے پناہ لگاؤ ہو گیا تھا۔ڈش انٹینا لگوا کر ایم ٹی اے بڑے شوق سے سنتے تھے۔کس طرح بیعت کی؟ یہ بھی ان کی عجیب کہانی ہے۔اس کا ذکر آگے آتا ہے۔ان کے ملنے والے نے ایک خط میں ذکر کیا ہے کہ سانحہ لاہور میں ایک ایسے وجود نے بھی جام شہادت نوش کیا جس کو بیعت کی توفیق تو اللہ تعالیٰ نے گزشتہ سال ہی عطا فرمائی تھی لیکن اس تھوڑے سے عرصہ ہی میں ان کو خلافت سے اتنی محبت ہو گئی تھی کہ جب بھی وہ ایم ٹی اے پر میرا کوئی پروگرام دیکھتے تھے، تو چہرے کو زوم (Zoom) کر کے سکرین پر لے آتے تھے اور جماعت سے اتنا گہرا تعلق ہو گیا تھا کہ ہمیشہ دارالذکر میں ہی جا کر جمعہ پڑھتے تھے۔اور باوجود یہ کہ قریب ہی مسجد تھی، کہتے تھے کہ مجھے 150