شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 131
مکرم شیخ مبشر احمد صاحب شہید اگلا ذکر ہے مکرم شیخ مبشر احمد صاحب شہید ابن مکرم شیخ حمید احمد صاحب کا۔شہید مرحوم کے آباؤ اجداد قادیان کے رہنے والے تھے، پارٹیشن کے بعد ربوہ آگئے اور 35 سال سے لاہور میں مقیم تھے۔پھر ربوہ سے لاہور چلے گئے۔ان کے دادا مکرم شیخ عبدالرحمن صاحب نے خلافت ثانیہ کے دور میں بیعت کرنے کی توفیق پائی۔حضرت مہر بی بی صاحبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، صحابیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان کی نانی تھیں۔بوقت شہادت ان کی عمر 47 سال تھی اور مسجد بیت النور ماڈل ٹاؤن میں جام شہادت نوش فرمایا۔بیت النور کے پچھلے ہال کی تیسری صف میں بیٹھے ہوئے تھے۔دہشتگرد کے آنے پر دروازہ بند کرنے کی کوشش کی مگر ایک گولی ان کے پیٹ میں دائیں طرف لگ کر باہر نکل گئی۔بعد میں گرینیڈ پھٹنے سے بھی مزید زخمی ہوئے۔اور کان سے بھی کافی دیر تک خون نکلتا رہا۔باوجود اس کے بعد میں بھی دو تین گھنٹے یہ زندہ رہے ہیں ، پیٹ پر ہاتھ رکھ کر خود چل کر ایمبولینس تک گئے لیکن ایمبولینس میں ہسپتال جاتے ہوئے شہید ہو گئے۔سانحہ کے روز بظاہر حالات اس نوعیت کے تھے کہ نماز جمعہ پر جانا مشکل تھا لیکن خدا تعالیٰ نے شہادت کا رتبہ دینا تھا اس لئے بالآخر بیت النور پہنچ گئے۔شہید مرحوم ہر جمعہ کو اپنے بیمار خسر کو نماز کے لئے لے جایا کرتے تھے۔اس مرتبہ ان کی طبیعت ناساز تھی اور انہوں نے کہا کہ میں نے اس دفعہ جمعہ پر نہیں جانا۔چنانچہ اکیلے خود ہی جمعہ کیلئے نکلے۔راستے میں گاڑی خراب ہو گئی گاڑی کو ورکشاپ پہنچایا اس کے بعد اپنے قریبی کام کرنے والی جگہ پر چلے گئے تا کہ بعض امور نمٹا سکیں۔وہاں پہنچے ابھی کام شروع کیا ہی تھا تو لائٹ بند ہوگئی۔وہاں سے باہر نکلے تو بھائی سے ملاقات ہوگئی اور اس نے کہا کہ مجھے بھی جمعہ پر جانا ہے، لے جائیں۔ابھی یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ لائٹ آگئی۔لیکن بہر حال جمعہ پر چلے گئے۔بجلی آنے پر کام شروع نہیں کیا بلکہ جمعہ کے لئے روانہ ہو گئے۔اگر کام میں مصروف ہوتے تو ہوسکتا تھا وقت کا پتہ نہ لگتا۔131